کچھ عرصہ پہلے اسرائیلی یہودیوں نے فلسطینی نہتے مجاہدین پر پیلٹ گن کے فائر شروع کیے جس سے سینکڑوں فلسطینی نابینہ ہوگئے، نسل کشی کا یہ یہودی تجربہ کامیاب رہا اور اس پھر اسی طریقے کو بھارتی ریاستی دہشت گردوں نے کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنے کا پلان بنایا۔
یہ دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تھا کہ اسرائیل نے فلسطینوں پر اور بھارت نے کشمیریوں پر انسان دشمن پہلٹ گن کا استعمال کیا جو کہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف وزی تھی، چونکہ بین الاقوامی برادری پر یہودیوں کا قبضہ ہے اس لیے کوئی خاطر خواہ ایکشن نہیں لیا گیا۔
اسرائیل نے جب فلسطینیوں پر پیلٹ گن استعمال کی تو مسلم امہ تڑپ اٹھی، مسلمان بشمول ترکی نے اس ظلم پر آواز اٹھایا، موبائل سے وڈیوز اور تصاویر بناکے سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے لگیں تاکہ اسرائیلی بربریت کو دنیا کو دکھا جاسکے، الیکٹرانک میڈیا اور نیوز چینلز تو پوری دنیا کے یہودیوں کے حکم کے بغیر کوئی خبر نہیں چلاتے اس لیے مظلوموں اک واحد سہارا سوشل میڈیا بنا اور اس کو استعمال کرکے نوجوانوں نے اسرائیل کی بربریت پوری دنیا کو دکھائی۔
اسرائیل کی اس سے بہت بےعزتی ہوئی، اسرائیل پریشان ہوگیا اور بالاخریہودیوں نے فیس بک کے بانی کے ساتھ مل کر خفیہ ڈیل کی اور اس ڈیل کے نتیجے میں اس عورت جاردانہ کٹلر کو فیس بک میں پالیسی اینڈ کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کی ہیڈ کی نوکری پر خاموشی سے بھرتی کرلیا گیا۔
اب اس عورت کا تعارف بھی ہوجائے، یہ عورت فیس بک میں آنے سے پہلےاسرائیلی وزیراعظم کی مشیر رہ چکی تھی، یہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی ایجنٹ بھی ہے اور اس یاد رکھیں کہ فیس بک کا بانی مارک زکربرگ بھی ایک کٹر یہودی اور اسرائیل کا سب سے بڑا حامی ہے۔
مارک زکربگ نے اسرائیلی یہودیوں کے کہنے پر اس عورت کو اپنے پاس پالیسی ڈپارمنٹ کی ہیڈ کی نوکری پر رکھ لیا اور پھر کھیل یہیں سے شروع ہوا۔
یہ عورت فیس بک میں کیا کام کرتی ہے؟
بظاہر جوردانا کٹلر فیس بک کی پالیسی بناتی ہے اور فیس بک کے اندر معلومات کی ترسیل کا کام کرتی ہے لیکن درحقیقت یہ ان آئی ڈیز کو بند کرتی ہے جو اسرائیل کی بربریت والی وڈیوز یا تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتی پائی جاتی ہیں یا جو یہودیوں کے خفیہ عزائم دنیا کو دکھاتے ہیں۔
آپ نے کبھی دیکھا ہوگا کہ کوئی پوسٹ اچانک فیس بک کی طرف سے ڈلیٹ کردی جاتی ہے یا کوئی وڈیوز/تصویر فیس بک والے یہ کہہ کر ڈلیٹ کردیتے ہیں کہ یہ ان کی پالیسی کے خلاف ہے
یہی عورت اس پالیسی ڈپارٹمنٹ کی ہیڈ ہے اور یہی ان تمام پوسٹس/وڈیوز/تصاویر کو فیس بک سے ڈلیٹ کرتی ہے جو یہودیوں یا ہندوستانیوں کے مظالم دنیا کو دکھائیں۔
اس عورت کو ٹھیک اسی وقت فیس بک میں نوکری پر رکھا گیا جب اسرائیلی پیلٹ گنوں کا مسئلہ کھڑا ہوا تھا، اس عورت کے آتے ہی کئی مسلمانوں جن میں اکثریت پاکستانیوں کی تھی کی آئی ڈیز بلاک کردی گئیں، جو بھی فلسطین کے حق اور اسرائیل کے خلاف بولتا اس کی آئی ڈیز بند کردی جاتی، جو بھی فلسطینوں پر پیلٹ گن چلاتے اسرائیلی فوجیوں کی وڈیوز /تصاویر شیئر کرتا اس کی آئی ڈیز بند کردی جاتیں اور یہی کچھ اس کے بعد کشمیر میں بھی ہوا۔
اسرائیلی یہودی اور ہندوستانی ہندو ایک دوسرے کے نظریاتی ساتھی ہیں کیونکہ یہ دونوں ہی اسلام کے سخت ترین مخالف اور دنیا میں سب سے بڑے دشمن ہیں۔
اسرائیل اس عورت کو فیس بک میں بٹھانے کے بعد پیلٹ گنوں کے مسئلے سے نکل آیا، ہزاروں آئی ڈیز بند ہوجانے پر یہ معاملہ بھی دب گیا اور پھر ہندوستان نے یہی طریقہ مقبوضہ کشمیر میں آزمایا۔ یہاں بھی سینکڑوں نہتے کشمیریوں کی نسل کشی کرنے کے لیے وہی یہودی طریقہ اپنایا گیا، پیلٹ گنون کے ہزاروں برسٹ سیدھے کشمیریوں کے منہ پر بھینکے گئے، سینکڑوں کشمیری بھائی بہنیں اور مائیں ہمیشہ کے لیے نابینہ ہوگئیں اور جو پاکستانی کشمیریوں کے ظلم پر آواز اٹھانے لگے ان کی آئی ڈیز ہندوستان نے اپنے اسرائیلی یہودیوں کے زریعے اس عورت سے کہہ کر فیس بک سے ڈلیٹ کروادیں۔
جب برہان وانی شہید ہوا، پاکستانیوں نے برہان وانی کی تصاویر اپنی ڈی پر لگانی شروع کردیں، فیس بک نے ہر وہ آئی ڈی بلاک کردی جس پر برہان وانی کی تصاویر تھیں، جو بھی ایکٹو بندہ یا بندی تھی جو ہندوستانی مظالم دنیا کو دکھا رہے تھے ان سب کی آئی ڈیز بھی فیس بک میں بیٹھی اس یہودن نے بند کردیں۔
یاد رہے یہ سب کرنے میں یہ عورت اکیلی نہیں تھی بلکہ فیس بک کا بانی مارک زکرگ بھی مکمل طور پر اس کے ساتھ تھا، بظاہر تو مارک زکربرگ خود کو آزادی اظہار رائے کا حامی کہتا پھرتا ہے مگر جب پاکستانیوں نے برہان وانی کی ڈی پی لگائی تب اس کی آزادی اظہار رائے والی باتیں گم ہوگئیں اور دھڑا دھڑ پاکستانیوں کی فیس بک آئی ڈیز بند کردی گئیں کیونکہ سینے میں اصل محبت اسرائیل سے اور شدید نفرت مسلمانوں سے جو ہے۔
مسلمانوں یہی وجہ تھی کہ میں کئی عرصے سے کہتا چلا آرہا تھا کہ اپنا سوشل میڈیا بناؤ، فیس بک ٹویٹر کے خلاف کھڑا ہونا ہے تو اپنا فیس بک اور ٹویٹر بنانا ہوگا، آج نہیں بناؤگے تو کل کو بہت پچھتاؤگے کیونکہ اب زیادہ تر جنگیں اسی سوشل میڈیا پر لڑی جاتی ہیں، وہ جب چاہتے ہیں ہمارے اہم ترین لکھاریوں کی آئی ڈیز بند کردیتے ہیں اور ہم مجبورا کئی ہزار فالورز بیٹھے بٹھائے کھو دیتے ہیں، یہ سلسلہ چلتا رہے گا جب تک مسلمانو اپنا سوشل میڈیا نہیں بنا لیتے۔
جو لوگ کہتے ہیں کہ اس کا مقابلا نہیں کیا جاسکتا وہ یقینا احمقوں کی دنیا میں رہتے ہیں کیونکہ اس دنیا میں کوئی بھی چیز ناممکن نہیں اور اللہ فرماتا ہے کبھی ناامید مت ہو۔ جب بندہ خدا کسی کام کا ارادہ کرلے تو پھر اللہ پر مکمل بھروسہ رکھے، یہودی اسی فیس بک اور ٹویٹر کے زریعے مسلمان ممالک سے کھربوں روپے سالانہ کمارہے ہیں اگر ان کی ویب سائٹ پاکستان میں بند کردی جائے تو وہ ہمارے پاؤں پکڑنے لگ جائیں گے، یوٹیوب کی مثال آپ کے سامنے ہے، کس طرح یوٹیوب بند ہواور وہ ہمارے پاؤن پکڑنا شروع ہوگئے بالاخر ہم نے ان سے پاکستانی یوٹیوب بھی لانچ کروادیا۔ اسی طرح ہم فیس بک اور ٹویٹر کو بھی جھٹکے لگاسکتے ہیں اور پھر اپنی ویب سائٹ لانچ کرکے ان یہودیوں ویب سائٹس کو ملک میں ہمیشہ کے لیے بند کرکے پاکستانیوں کو اپنی ویب سائٹ پر آنے کا کہا جاسکتا ہے۔
اس تحریر لکھنے کا مقصد آپ کو یہودیوں کے خفیہ عزائم سے آگاہ کرنا اور مستقبل کی تیاری وقت سے پہلے کرنے کی طرف ذہن سازی کرنا ہے۔ اگر کوئی مسلمان آئی ٹی کمپنی یا کوئی بزنس ٹائکون اس پر کام کرے تو یقینا ایک سال میں ہی کھرب پتی بھی بن سکتا ہے۔ کمائی بھی ہوگی اور ملک کا بھلا بھی ہوجائے گا ورنہ قرآن پاک کی یہ آیت ہمیشہ یاد رکھیں کہ
"اے ایمان والو ! یہود و نصارہ تمہارے کبھی بھی دوست نہیں ہوسکتے، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں"
تحریر: یاسررسول
#BoycottJewishSocialMedia
#MuslimSocialMedia


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں