شیطان کے 4 وعدے اور ویکسین


ویکسینز سے انسانوں کے DNA تبدیل کرنے پر میری تحاریر پڑھ کر کسی نے ایک سنجیدہ سوال اٹھایا ہے۔ سوال اور اسکا جواب آپ کے ساتھ اس نیت سے شیئر کر رہا ہوں کہ آپ سب کی معلومات میں بھی اضافہ ہوجائے۔ 

سوال : 

اگر واقعی ویکسینز وغیرہ سے انسانوں کی جین نکال دی جائے گی تو پھر روز قیامت ان لوگوں کا حساب کیسے ہوگا؟ یعنی ان کے ساتھ سزا و جزاء کا معاملہ پھر کیسے ہوگا کیونکہ اس جین نکالنے والے حساب سے دیکھا جائے تو پھر کسی کا قصور ہی نہیں نکلے گا اور جو بھی غلط کام وہ کریں گے اسکی سزا انہیں کیسے مل سکتی ہے؟ انکی جینز ہی کسی نے ریپلیس کردیے تو وہ اللہ کو کہہ دیں گے کہ یا اللہ ہماری سزاء نہیں بنتی؟ اس متعلق آپ اسلامک پوائنٹ آف ویو سے بھی بتائیں کیونکہ مجھے بلکل سمجھ نہیں آرہی، نہ ہی ایسی کوئی حدیث نظر سے گزری، سائنٹیفیکلی بےشک ایسا ممکن ہوسکتا ہے لیکن اسلامی نقطہ نظر سے ہم کیسے ثابت کریں کہ یہ واقعی ممکن ہے؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

جواب:

سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین کریں کہ اللہ عزوجل نے شیطان کو جتنی بھی طاقت دی ہے اسکی بھی ایک حد ہے۔ دوسری بات ہم انسانوں کو اللہ نے صحیح اور غلط کی مکمل پہچان دیکر ہی زمین پر بھیجا۔ یہ پہچان ہمارے اجسام کو نہیں بلکہ روح کو کروائی گئی ہے۔

روح اور جسم الگ چیزیں ہیں، شیطان جسم تک تو اختیار رکھتا ہے لیکن روح پر کبھی کنٹرول حاصل نہیں کرسکتا۔ اس بات کی مزید تفصیل جاننے کے لیے تحریر آخر تک پڑھیں۔

انسان اچھے یا برے اعمال کرنے کا کلی اختیار رکھتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان کو صحیح اور برے کام کی پہچان اسکا دماغ نہیں بلکہ "ضمیر" کرواتا ہے۔ اس ضمیر کو آپ آسان الفاظ میں "دل" کہہ سکتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی غور نہیں کیا کہ کبھی کبھی ہمارا دماغ جو کام کرنے کو کہتا ہے وہ دل نہیں مانتا اور جو دل کہتا ہے دماغ اسکے متعلق بتاتا ہے کہ ایسا کرنا ٹھیک نہیں ہوگا۔ یہاں غور طلب بات یہ ہوتی ہے کہ دل ہمیشہ صحیح بات ہی بتاتا ہے جبکہ مکارانہ چالیں صرف دماغ سے ہی پیدا ہوتی ہیں۔ تو دماغ اور دل الگ الگ کیسے سوچتے ہیں؟ اسکا جواب یہ ہے کہ دماغ اور جسم پر شیطان کنٹرول کرلیتا ہے، غلط کام کے مشورے دماغ میں ہی دیتا ہے، لیکن وسوسے صرف دل میں ڈالتا ہے کیونکہ وہ دل کو مشورہ نہیں دے سکتا۔ یہاں دل سے مراد روح ہے۔ وہ روح تک کنٹرول نہیں پاسکتا۔

آسان الفاظ میں ضمیر (دل) کا تعلق روحانی طور پر ہمارے خون سے نہیں بلکہ روح سے ہے۔ شیطان انسان کی رگ رگ میں خون کی طرح دوڑ تو سکتا ہے لیکن اللہ نے اسے روح پر طاقت نہیں دی۔ یہاں شیطان کی حد ختم ہوتی ہے۔ وہ رگوں میں دوڑنے کی طاقت رکھتا ہے، دماغ کی سوچوں کو پھیر سکتا ہے، لیکن انسان چاہے 100 قتل بھی کرچکا ہو پھر بھی اسکے اندر ضمیر زندہ رہتا ہے جو مسلسل اسے جگاتا ہے کہ بھئی یہ کام غلط کر رہے ہو لیکن پھر بھی انسان وہ غلط کام کرلیتا ہے تو یہاں اسکی سزا بنتی ہے۔

مزید آسان الفاظ میں یوں سمجھیں کہ شیطان انسانوں کو مشورے دینے تک ہی طاقت رکھتا ہے مجبور نہیں کرسکتا اور نہ ہی قیامت تک مجبور کرسکے گا۔ کیونکہ اگر مجبور کرکے انسانوں سے گناہ کروالیا کرے تو پھر یقینی طور پر جنت و جہنم کا تصور ہی ختم ہوجاتا ہے لیکن اگر صرف مشورے دیکر، وسوسے ڈال کر اور برے خیالات سمجھاکر شیطان انسان پر چھوڑ دے کہ جاؤ فلاں گناہ کر آو اور انسان ضمیر کے ملامت کرنے کے باوجود بھی کہ ایسا کرنا صحیح نہیں ہوگا، وہ کام کر آتا ہے تو پھر یہاں انسان قصور وار ہے۔ اسکی سزا بنتی ہے اور اگر ضمیر کی مانتا ہے تو اسے احسن جزاء سے بھی نوازا جائے گا کیونکہ اللہ فرماتا ہے ھل جزاء الاحسان الی الاحسان۔۔۔ نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں۔

اسلامی نقطہ نظر سے کیسے ثابت کریں کہ شیطان کو پوجنے والی صیہونی قوتیں ہمارے DNA میں تبدیلی کرسکتی ہیں....؟

اسکا جواب ڈھونڈنے کے لیے ہمیں احادیث میں جانے کی ضرورت نہیں، اللہ عزوجل کی کتاب "قرآن پاک" میں ہی اسکا جواب موجود ہے۔

مثال کے طور پر : 

قرآن پاک میں اللہ عزوجل نے ہمیں شیطان کے 4 وعدوں کے متلعق بتایا ہے جو اس لعین (یعنی لعنت زدہ) نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کے بعد غرور میں آکر اللہ عزوجل سے کیے۔ وہ 4 وعدے قرآن پاک کی چوتھی سورت (النساء) کی آیت نمبر 119 میں مذکور ہیں۔ 

وہ وعدے یہ ہیں :

وعدہ نمبر 1 : 
قسم ہے میں ضرور انہیں گمراہ کردوں گا۔

وعدہ نمبر 2 : 
اور ضرور انہیں (جھوٹی) امیدیں دلاتا رہوں گا۔

وعدہ نمبر 3 : 
اور ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ جانوروں کے کان چیریں گے۔

وعدہ نمبر 4 : 
اور ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزیں بدل دیں گے !

ان 4 وعدوں پر سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کیا جائے تو صاف پتا چلتا ہے کہ شیطان نہ صرف ہمیں گمراہ کرکے جھوٹی دنیاوی امیدیں دلاتا ہے بلکہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزیں بدلنے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔ اللہ کی پیدا کی ہوئی ایک چیز انسان بھی ہے، جانور بھی، پودے بھی اناج بھی۔

آج سائنسدانوں کو دیکھیں تو پھل سبزیوں سے لیکر انسانوں تک اور مصنوعی بارشوں سے لیکر زلزلوں تک کیا کیا اللہ کی بنائی ہوئی چیزیں نہیں بدل رہے؟ 

یہ تو GMO فوڈ اور HAARP ٹیکنالوجی سے ہوتے ہوئے اب Human Cloning تک پہنچ گئے ہیں جس میں ایک انسان کا سر دوسرے کے دھڑ سے لگاکر  اور کسی بچے کو قتل کرکے اسکا تازہ جوان خون نئے دھڑ میں داخل کرکے بوڑھوں کو جوان بنانے کے تجربات کر رہے ہیں۔

جانوروں کے کان چیرنے سے کیا مراد ہے اور اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزیں بدلنے سے کیا مراد ہے ؟

اس بارے کچھ مفسرین نے اپنی تفاسیر میں لکھا ہے کہ آنے والے وقت میں شیطان انسانوں (سائنسدانوں کو) ایسے طریقے بھی سکھائے گا جس سے وہ قدرتی نظام میں ردوبدل کردیں گے۔ 

آج اگر ہم GMO فوڈ کو دیکھیں تو یہ قدرت کی عطا کردہ اشیاء سے ردوبدل کرکے مصنوعی طور پر لیبارٹری میں پیدا کی گئی سبزیاں اور پھل ہیں، اسی طرح انہوں نے بغیر پروں کے مرغیاں بھی لیبارٹری میں پیدا کی ہیں، ایسے ہی انسانوں پر بھی انکے تجربات عشروں سے جاری ہیں تاکہ یا تو انسانوں میں لامحدود طاقت انڈیلی جاسکے جیسے مچھلی کی طرح سمندروں میں بغیر کسی آکسیجن کے مہینوں تک تیرنا اور زندہ رہنے کی طاقت یا آسمانوں میں پرندوں کی طرح اڑنے کی طاقت غیرہ یہ غیرمرئی طاقتیں انسانون میں انڈیلنے کے تجربات مسلسل جاری ہیں۔ 

یہ طاقتیں انسانوں میں منتقل کرنے کا واحد طریقہ انسانوں کے قدرتی DNA میں تبدیلی کرنے سے ممکن ہے۔ یعنی اللہ کی پیدا کی ہوئی قدرتی چیزوں میں ردوبدل۔ یہ وہی وعدہ ہے جو شیطان نے اللہ سے کیا تھا کہ میں ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزیں بدل دیں گے۔

یہ مچھلی کی مخصوص DNA کو پہلے چوہوں اور پھر انسان میں منتقل کرتے ہیں تاکہ مچھلی کے پاس پانی میں زندہ رہنے کی جو خصوصی صلاحیت ہے خصوصی جین ہے وہ انسان میں منتقل کی جاسکے۔ اسی طرح دوسرے جانوروں کی خصوصیات ان کے DNA سے نکال کر انسانوں پھلوں جانوروں وغیرہ میں منتقل کرکے تجربات کیے جارہے ہیں اور اس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہوچکے ہیں 

اب یہ انسانوں کے DNA سے خدا سے تعلق قائم رکھنے کی خصوصی جین کو بھی پہچان چکے ہیں۔ اسے GOD GENE کا نام دیا گیا ہے۔ اس جین کی وجہ سے ہی انسان کا روحانی تعلق اللہ سے قائم رہتا ہے، وہ مذھبی یا جہادی سوچ اپناتا ہے، دین پر سختی سے عمل پیرا رہتا ہے۔ اب یہ اس جین کو نکالنا چاہتے ہیں اسکے لیے وہ ویکسینز کا استعمال کر رہے ہیں اور ویکسینز سب کو لگانے کے لیے وہ جان بوجھ کر کرونا جیسے وائرسز پھیلاتے ہیں۔ یہ سارا شیطان اپنے چیلوں کے زریعے کروا رہا ہے کیونکہ اس نے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ میں انہیں سکھاوں گا تو یہ اللہ کی بنائی قدرتی چیزیں بدل دیں گے۔

انسان کے DNA سے اللہ سے تعلق قائم رکھنے کی جین نکالنا ہو یا اچھے برے کاموں کی پہچان کروانے والی جین ڈلیٹ کرنی ہو یا جنت کی چاہ، جہنم کا خوف پیدا کرنے والا خصوصی جزو DNA سے نکال دینا ہو یہ سارا کام شیطانی سائنسدان DNA میں ردوبدل کرکے کر رہے ہیں۔ مسلسل تجربات ان کے جاری ہیں ۔۔۔۔۔

موجودہ کرونا ویکسین دنیا کی پہلی ایسی ویکسین ہے جس کو mRNA ویکسین کہا جاتا ہے جسکا مطلب ہے کہ یہ والی ویکسین DNA میں تبدیلی کرنے والی دنیا کی پہلی ویکسین ہے۔ اب یہ DNA میں کیا تبدیلی کرے گی اسکے متعلق جو دنیا کو بتایا جارہا ہے وہ سب چونا لگانے کے مترادف ہے، اصل مقصد مخفی رکھی گئی ہے۔

کرونا وائرس اتنے لوگ نہیں مارسکے گا جتنے خود ویکسین مارے گی یا پھر اپاہج کردے گی۔ اس ویکسین کا اصل مقصد انسانوں کے DNA میں نامعلوم تبدیلی لانا ہے۔ جہادی سوچ ختم کرنا ہے، کفار کے خلاف چالیں چلنے کی صلاحیت ختم کرنا ہے، جی حضوری انڈیلنا تاکہ نمرود نما یہودی جب عالمی حکومت کا تخت سنبھالے گا تو کوئی چوں چران نہ کرے۔ سب غلامی پر آمادہ ہوجائیں۔ اس جین تبدیلی سے انسان کی شرح پیدائش بھی محدود کرنا ہے تاکہ دنیا کی آبادی 8 ارب سے 1 ارب تک لائی جاسکے۔

اسی طرح کچھ تجربات ایسے بھی جاری ہیں جن کے زریعے انسانوں کی سوچ کو محدود کیا جاسکے تاکہ وہ صحیح اور غلط کا سوچنا چھوڑ دیں اور جو یہودیوں سے انہیں احکامات ملیں یہ اس پر سوال نہ اٹھائیں بلکہ غلامی قبول کرلیں۔ اسکی زندہ مثال ویکسین ہے۔

پینٹاگان کی وہ خفیہ وڈیو تو آپ نے دیکھی ہی ہوگی جس میں ایک شیطان کا چیلا سائنسدان کفار کو پرزنٹیشن دیکر سمجھا رہا ہوتا ہے کہ ہم انسانوں کے دماغ سے جہاد اور پرتشدد کاروائی کرنے کی سوچ کو ان کے DNA میں تبدیلی کے زریعے ختم کرسکتے ہیں۔ بالخصوص وہ مشرق وسطہ میں امریکہ کو مسلم جہادیوں سے درپیش مشکالات کم کرنے کا سائنسی اور دیرپا طریقہ یہی سمجھاتا ہے کہ کس طرح ہم پہلے جان بوجھ کر وائرس تیار کرواکے اسے پھیلائیں گے پھر اسی وائرس سے بچانے کے نام پر ہم ان سب کو ایک ایسی ویکسین لگائیں گے جس سے انکی سوچوں کا رخ مڑجائے گا، یعنی DNA میں جو چیز انہیں جہاد پر اکساتی ہے، اللہ سے تعلق کو مضبوط رکھواتی ہے، اسے ہم ختم کردیں گے تاکہ مسلمانوں کی اگلی نسل ایسی پیدا ہو جن کے دماغ میں کفار کے خلاف جہاد نام کی کوئی چیز نہ پائی جاتی ہو۔

وہ وڈیو آپ ناچیز کے یوٹیوب چینل پر دیکھ سکتے ہیں، پسند آئے تو لائک کرکے چینل سبسکرائب کرنا مت بھولیں۔

سائنسدان "جہادی سوچ" کس حد تک کم کرسکتے ہیں...؟

احادیث سے پتا چلتا ہے کہ جب دجال آئے گا تو روئے زمین کے ہر شہر میں جائے گا۔ جس شہر کے لوگ اسے خدا تسلیم کریں گے وہ ان پر بارشیں برسائے گا، انہیں خوشحال کردے گا، بنجر زمینوں سے اناج اگادے گا لیکن۔۔۔۔۔ لیکن ان ہی احادیث سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جو اسے خدا ماننے سے انکار کردیں گے تو ان پر یہ مصیبتیں مسلط کردے گا۔ ان پر قحط مسلط کرے گا۔ انکا دانا پانی اور معاشی ناقطہ بند کردے گا۔۔۔۔

لیکن کچھ احادیث سے دجال کے خلاف جہاد کرنے والوں کا بھی ذکر ملتا ہے جن کی قیادت امام مہدی (علیہ السلام) فرمائیں گے۔ 

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ دجال کے دور میں مسلمانوں کی اکثریت جہاد سے انکاری ہوچکی ہوگی۔ یہ بڑا اہم سوال ہے کہ مسلمان کیونکر ایسے ہوجائیں گے؟ اس سے پتا چلتا ہے کہ اس دور تک مسلمانوں کی اکثریت کے دماغ سے "جہادی سوچ" نکالنے میں شیطان اپنے چیلوں کے زریعے کامیاب ہوچکا ہوگا۔ 

وہ کامیاب کیسے ہوگا۔۔۔۔؟؟

اسکا جواب ہے کہ ویکسینز اور اس طرح کی جدید اودیات کے زریعے وہ انسانوں کا DNA تبدیل کرچکے ہوں گے۔

کسی ایک انسان کا DNA بدل جائے تو اسکی آنے والی پوری نسلوں کا  بھی خودبخود بدل چکا ہوگا بشرطیکہ اللہ جس پر اپنا کرم فرمائے یا جسے اپنی رحمت میں جگہ دیکر فتنوں سے محفوظ رکھے۔

احادیث میں آتا ہے کہ دجال کے خلاف جو لوگ جہاد کریں گے وہ بہت تھوڑے ہوں گے۔ بہت ہی تھوڑے سے یعنی کروڑوں میں سے کوئی ایک۔۔۔۔ کچھ احادیث چونکا دینے والی بھی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ جب دجال نکلے تو اس وقت روئے زمین پر گنتی کے چند ہی مسلمان مومن بچے ہوں گے۔ بچنے والے سب بیت المقدس یا اس سے ملحقہ کسی عمارت میں محصور ہوکر پناہ لیں گے۔ چند مفسرین نے انکی تعداد 313 بتائی ہے کسے نے اس سے بھی کم۔ یعنی دنیا کی 8 ارب آبادی میں صرف 313 مسلمان۔۔۔۔ اللہ اکبر۔

یہ وہ مسلمان مومن ہوں گے جو اس وقت تک "جہادی سوچ" پر قائم رہیں گے یا اللہ اپنی خصوصی رحمت سے انہیں فتنوں سے بچائے رکھے گا۔ یہ خوشنصیب دجال سے جنگ کا پلان بنانے کے لیے وہیں اکٹھے ہوں گے کہ اسی دوران وہاں انکے پاس سیدنا خضر علیہ السلام اور امام مہدی علیہ السلام آئیں گے۔ امام مہدی علیہ السلام انہیں وہاں سے نکال کر دجال کے خلاف جنگ کی تیاری کروائیں گے۔ 

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ دجال کے آنے تک "جہادی سوچ" قائم تو رہے گی لیکن بہت ہی کم یا یوں سمجھیں کہ صرف اولیاء اللہ یا چند حقیقی مومنین ہی ایسے بچیں گے جو اللہ کی خصوصی رحمت کے ساتھ دجال کے فتنے سے اس وقت تک بچے ہوئے ہوں گے۔ اس لیے ہم سب کو فتنہ دجال سے ہمیشہ پناہ مانگتے رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔ 

فتنہ دجال سے ہمیشہ پناہ میں رہنے کے لئے حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص ہر جمعہ کو "سورہ کہف" کی تلاوت کرے گا وہ فتنہ دجال سے محفوظ رہے گا۔ لہذہ اگر آپ اس فتنے سے بچنا چاہتے ہیں تو ہر جمعے کو سورہ کہف کی لازمی تلاوت فرمائیں اور اپنے اہل و عیال کو بھی تلقین کریں۔ یاد رہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتنہ دجال کو روئے زمین کا سب سے بڑا فتنہ کہا ہے 

قارئین۔۔۔۔!

شیطان کے 4 وعدوں کو غور سے دیکھنے کے بعد اور آخری دور میں گنتی کے چند مسلمانوں میں ہی "جہادی سوچ" بچنے سے صاف پتا چلتا ہے کہ شیطانی قوتیں آنے والے وقت میں ہماری سوچوں کو محدود تو کرسکتی ہیں لیکن ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کرسکتیں بشرطیکہ ہم خود ہی شیطان بن جائیں۔ ختم نہ کرسکنے سے مراد یہ ہے کہ وہ ہماری روح کا مکمل کنٹرول کبھی بھی حاصل نہیں کرپائے گا، شیطان ہماری رگ رگ میں گھوم سکتا ہے لیکن روح تک رسائی نہیں رکھتا نہ ہی کبھی رکھ سکے گا۔

تو یہ واضع ہوگیا کہ اسلامی اور سائنسی دونوں نقطہ نظر سے انسان کے DNA میں تبدیلی سے سوچوں کو محدود کرنا بلکل ممکن ہے لیکن انسانوں کے ضمیر تک رسائی حاصل کرکے انہیں سُوَر کی طرح نجس بنانے پر شیطانی قوتیں یا خود شیطان بھی قیامت تک مکمل اختیار حاصل نہیں کرسکے گے۔ 

اسی نقطے کے تحت ہی اللہ عزوجل نے انسان کو ایسا تخلیق کیا ہے کہ شیطان بہکانے کے لیے آزاد تو چھوڑ دیا لیکن اپنی رحمت سے بھی مایوس نہیں کیا۔ صحیح اور غلط کی پہچان جو سیدنا آدم علیہ السلام کو کروائی گئی تھی وہ دنیا کے سب سے آخری پیدا ہونے والے بچے تک قائم رہے گی۔

خود کفار میں بھی ضمیر زندہ رہتا ہے، سوائے چند شیطان کو پوجنے والے لعینوں کے بیشتر لادین و مشرک لوگ بھی انسانیت کا نعرہ لگاتے ہیں۔ امریکی فوج اور CIA کے ہی کئی فوجی بےگناہوں کو قتل کرنے کے احکام ملنے کی وجہ سے یہ کہہ کر نوکری چھوڑ چکے ہیں کہ ہم بےگناہ معصوم لوگوں کو قتل نہیں کریں گے یہ غلط ہے ہم۔ انڈین فوجی بھی آئے روز خودکشیاں اسی لیے کرتے ہیں کہ وہ اوپر سے ملنے والے احکامات کو غلط سمجھتے ہیں، یعنی بےگناہ نہتے کشمیریوں کو قتل کرکے وہ خود ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں کہ ہم غلط کر رہے ہیں لیکن مجبوری میں انہیں 100 قتل بھی کرنا پڑتے ہیں کیونکہ فوج میں حکم ماننے سے انکار ممکن نہیں ہوتا، نتیجا وہ خودکشی کرلیتے ہیں۔ یعنی ان کے اندر بھی اچھے اور برے کی تمیز موجود رہتی ہے، یہ تمیز (ضمیر کی ملامت) ہندو سے لیکر یہودی تک سب میں موجود رہتی ہے، چاہے کتنا ہی بڑا زانی شرابی ہو اسکا ضمیر مرتے دم تک زندہ رہتا ہے اور اسی زندہ ضمیر کی کسوٹی پر ہی انکا روز قیامت حساب ہوگا۔

امید کرتا ہوں سوال کا جواب مل گیا ہوگا کہ انسان کو جزا و سزا کیوں ہوگی۔ مزید کوئی کنفیوزن یا سوال ہو تو ضرور پوچھیں ۔۔۔۔ 

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرلیں 
لنک : www.Youtube.com/CaptainYasirRasool 

تبصرے