ویکسین اور صحت عامہ
ویکسینز اور صحت عامہ کو ہمیشہ انسانی بھلائی کے لیے ضروری قرار دیا
جاتا ہے۔۔۔ لیکن شیطان پرستوں کے کچھ بیانات ایسے ہیں جن پر کئی سوالات کھڑے ہوتے
ہیں مثلا۔۔۔۔
بل گیٹس نے ایک انٹرویو میں کہا
اگر ہم نئی ویکسینز، صحت عامہ اور تولیدی صحت پر کام کریں تو ہم
یقینی طور پر عالمی آبادی کی شرح میں 10 سے 15 فیصد کمی کر سکتے ہیں۔
بل گیٹس کا یہ بیان اس وڈیو میں سنا جاسکتا ہے
https://www.ted.com/talks/bill_gates_innovating_to_zero
رپورٹس کے مطابق بعض ترقی پذیر ممالک میں ایسی ویکسینز استعمال کی
گئی جو خواتین میں بانجھ پن پیدا کرتی ہیں۔۔۔ بالخصوص افریقی ممالک میں۔
خوراک اور پانی کے زریعے
خوراک اور پانی انسانی صحت پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔ ان کے زریعے
بہت سے ایسے طریقے نافظ کیے گئے جو آبادی گھٹانے میں مفید ہیں جیسے کہ :
جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خوراک (جی ایم او فوڈ)
اس طرح کی خوراک میں جان بوجھ کر ایسے اجزاء شامل کیے جاتے ہیں جو
انسانی جسم پر دیرپا اثرات ظاہر کرتے ہیں بالخصوص تولیدی صحت یعنی بچے پیدا کرنے
کی صلاحیت پر منفی اثرات ڈالتے ہیں۔
پانی میں فلورائیڈ
پینے کے پانی میں فلورائیڈ ملانے کا دعویٰ دانتوں کی حفاظت کے لیے
کیا جاتا ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے منفی اثرات بھی ہیں جن میں تولیدی
صحت یعنی بچے پیدا کرنے کی صلاحیت پر منفی اثرات بھی شامل ہیں۔
فارماسیوٹیکل انڈسٹری اور مستقل بیماریاں
فارماسیوٹیکل کمپنیاں بظاہر صحت کی بہتری کے لیے کام کرنے کا دعویٰ
کرتی ہیں لیکن کئی لوگ ان پر سوالات اٹھاتے ہیں کیونکہ آج بھی مارکیٹ میں کئی ایسی
دوائیں موجود ہیں جو بیماریوں کا مکمل علاج کرنے کی بجائے مریضوں کو مستقل طور پر
دواوں پر انحصار کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔
مختلف رپورٹس میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ کچھ مخصوص ویکسینز اور دوائیں
تولیدی صحت یعنی بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہیں جس سے شرح پیدائش کم
ہوجاتی ہے۔۔۔ یعنی آبادی کم کرنے کا خفیہ طریقہ ۔۔۔
ثقافتی اور سماجی تبدیلیوں کے ذریعے آبادی میں کمی کرنا
٭ کچھ
غیر محسوس طریقے ایسے بھی پروموٹ کیے گئے ہیں جو شرح پیدائش کو کم کرنے میں مددگار
بنتے ہیں جیسے
٭ کیرئیر
کو خاندان پر فوقیت دینے کی حوصلہ افزائی کرنا
٭ میڈیا،
سوشل میڈیا اور مختلف این جی اور کے ذریعے خواتین کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اصل
کامیابی کیرئیر بنانا ہے نہ کہ شادی کرنا اور بچے پالنا۔۔۔۔ اس طرح کم سے کم
شادیاں ہوں گی تو مطلب کم بچے پیدا ہوں گے۔
فیملی سائز کم کرنے کی ترغیب
مختلف ممالک میں ایسے پالیسیاں نافظ کروائی گئی ہیں جو میاں
بیوی کو کم سے کم بچے پیدا کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ جیسے پاکستان میں فیملی پلاننگ
کے نام پر ہزاروں کلنک کھولے گئے اور وہاں کام کرنے والے عملے کو اقوام متحدہ کے
زریعے تنخواہیں اور دیگر مراعات دی گئیں تاکہ وہ پاکستانی خواتین کو کم سے کم بچے
پیدا کرنے پر آمادہ کرتے رہیں۔ "بچے دو ہی اچھے" کا نعرہ یہیں سے ایجاد
ہوا۔ پہلے جن گھروں میں 6 سے 7 بچے ہوتے تھے اب وہاں صرف 1 یا 2 ہی بچے پیدا کیے
جاتے ہیں۔
عالمی جنگیں اور وباوں کے زریعے
مختلف ممالک کے درمیان جنگیں کروانا، خانہ جنگی کو ہوا دینا باقائدہ
پالیسی کے تحت کیا جاتا ہے تاکہ ایک تو اسکی آڑ میں اربوں ڈالرز کا اسلحہ بیچ کر
پیسہ کمایا جائے۔۔۔ دوسرا جنگوں سے زیادہ سے زیادہ لوگ مارے جائیں تاکہ آبادی بھی
کم ہوجائے، وسائل پر بھی قبضہ ہوجائے۔
وبائیں پھیلانا پھر علاج کے نام پر زبردستی ویکسین
لگانا
وبائیں پھیلانے کا ڈبل ٹرپل فائدہ ہوتا ہے۔۔۔ ایک تو ہزاروں لوگ خوف
سے مرجاتے ہیں۔۔ دوسرا ویکسین لگاکر بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کو بائیولاجیکل طریقے
سے محدود کردے گی جبکہ تیسرا فائدہ یہ ہے کہ خود ہی ویکسین بناکر خود ہی بیچنے سے
اربوں نہیں بلکہ کھربوں ڈالرز کا منافعہ ہوجاتا ہے۔
عالمی آبادی کو کنٹرول کرنے والے ادارے اور شخصیات
کون ہیں ؟
کچھ ادارے اور افراد ایسے ہیں جو پس پردہ رہ کر ان ایجنڈوں کو اپنی
تنظیموں کے زریعے عملی جامہ پہناتے ہیں۔ بل گیٹس جیسے لوگ انکے فرنٹ میں ہوتے ہیں،
وہ خود سامنے نہیں آتے۔ ان خفیہ لوگوں کو آپ الیومیناٹی فری میسن کے نام سے جانتے
ہیں۔۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دونوں طرف کھیلتے ہیں پھر آخر میں ہوتا وہی ہے جو وہ چاہتے
ہیں۔ الیکشن میں یہی لوگ دنیا بھر کے سیاستدانوں کو پیسہ دیکر انکی کمپین چلاتے
ہیں پھر جو بھی جیتے وہ انکا ہی بندہ ہوتا ہے، جیت کر انکا ہی ایجنڈہ آگے چلاتا
ہے۔
اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کے ایجنڈا 2030 اور دیگر پالیسی پروگرامز میں واضع طور
پر دنیا کی آبادی کم کرنے کا ایجنڈہ شامل ہے۔ یہ کس نے شامل کروایا سوچیے ؟ وہ اسے
انسانیت کی فلاح 2 بہبود ہی پالیسی قرار دیتے ہیں لیکن اہل علم جانتے ہیں کہ اسکے
پیچھے انکا خفیہ ایجنڈہ ہے۔
بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن
یہ فاؤنڈیشن دنیا بھر میں صحت اور ویکسین کے پروگرامز چلاتی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ صحت جس نے کرونا کے دوران پوری دنیا سے غلط بیانی کی۔۔۔ کے
ساتھ اس تنظیم کا خاص اشتراک ہے۔ بل گیٹس نے کئی ملین ڈالرز کے عوض اقوام متحدہ کے
ادارہ صحت ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کو خرید لیا تھا۔۔
بل گیٹس کی تنظیم 'بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاونڈیشن' بظاہر لوگوں
کی صحت کے نام پر کام کرتے ہیں لیکن تحقیقات سے پتا چلتا ہے اور خود بل گیٹس کے
اپنے بیاناتات سے واضع ہوتا ہے کہ نئی ویکسینز کے پیچھے انکا ایجنڈہ عالمی آبادی
گھٹانا ہے۔
آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک
یہ ایسے مالیاتی ادارے ہیں جن کا مکمل کنٹرول شیطان پرست صیہونی
یہودیوں کے ہاتھ میں ہے۔ یہ مختلف ممالک پر ایسی پالیسیاں لاگو کرواتے ہیں جو ان
کی معیشت کو کمزور کر کے شرح پیدائش کم کرنے میں مدد دے۔ یہ قرض کے نام پر ہر طرح
کی شرائط تسلیم کرواتے ہیں، ممالک کا معاشی نظام کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی
ایجنڈوں کے مطابق پالیسیز بنانے پر بھی انہیں مجبور کرتے ہیں۔
بین الاقوامی منصوبہ بندی برائے زچگی
یہ ادارہ عالمی فیملی پلاننگ اور تولیدی صحت کے پروگرام چلاتا ہے۔ یہ
ادارہ ماضی میں 'جبری اسقاط حمل' اور 'بانجھ پن کے اقدامات' کرتے ہوئے پکرا گیا
تھا جس پر کافی شور بھی ہوا۔۔۔
کیا اقوام متحدہ ایک شیطانی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے؟
جی ہاں، اقوام متحدہ دجال کی عالمی اسمبلی ہے۔ الیومیناٹی پروٹوکولز
دستاویزات میں اسکا ذکر موجود ہے۔ وہ دستاویزات 100 سال پہلے لیک ہوئی تھیں۔ ان
دستاویزات کے مطابق ایک دن اقوام متحدہ کو 'عالمی سپر گورنمنٹ' میں تبدیل کردیا
جائے گا جس کو ایک یہودی النسل شخص چلائے گا جو ننہیال اور ددھیال دونوں اطراف سے خالص
یہودی ہوگا، پھر وہ پوری دنیا پر حکمرانی کرے گا۔
ممکنا طور پر دجال کی عالمی اسمبلی یہی اقوام متحدہ ہوسکتی ہے۔
آج یہ ادارہ انسانیت کی فلاح کے بہانے خفیہ طور پر درجنوں شیطانی
ایجنڈوں پر عمل کر رہا ہے۔
دنیا بھر میں فحاشی و عریانی ہو یا ہم جنس پرستی، یہ ادارہ ہی ان
تمام پالیسیز کے پیچھے ہوتا ہے بلکہ اعلانیہ ان پالیسیز کی حمایت بھی کرتا ہے اور
اپنے رکن ممالک کو بھی ان ایجنڈوں پر عمل کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کے مختلف ایجنڈے، جیسے "نیو ورلڈ آرڈر" اور
"ایجنڈا
2030"
کو اگر آپ تفصیلات سے پڑھیں تو کانوں کو ہاتھ لگ جائے گا۔ اسکے اندر عالمی آبادی
گھٹانے کا پلان بھی واضع طور پر موجود ہے۔
قصہ مختصر ۔۔۔۔
دنیا میں آبادی کنٹرول کرنے کی بحث نئی نہیں لیکن حالیہ دہائیوں میں
اس پر عملدرآمد کے لیے کئی طریقے اپنائے گئے ہیں۔ صحت، خوراک، معیشت، جنگ، اور
میڈیا کے ذریعے لوگوں کی انہوں نے بڑی حد تک زندگیوں اور فیصلوں پر کنٹرول حاصل
کرلیا ہے۔
اس لیے آج بہت ضروری ہے کہ ہم انکی تمام پالیسیوں کو گہری نظر سے
دیکھیں، اس کو سمجھیں، آنکھیں بند کرکے عمل نہ کریں بلکہ ان پر سوالات اٹھائیں۔۔۔
سب سے بڑھ کر زندگی اور صحت کے حوالے سے ہمیں انکے فیصلوں پر اب بلکل
بھی اندھا یقین نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ابھی حال ہی میں انہوں نے کرونا کے نام پر
پوری دنیا سے جھوٹ بولا تھا۔۔۔ سب کو ویکسین لگانے کا کہا جبکہ ویکسین نے کسی کو
فائدہ نہیں دیا الٹا لاکھون لوگ مرگئے۔ اب یہ خود ہی تسلیم کرچکے ہیں کہ ویکسین
ناکام رہی۔ تو کیا ہمیں اگلی وباء انے پر پھر سے ان پر یقین کرنا چاہیے۔۔۔۔؟؟ یاد
رہے وہ نئی وبائیں لانے کا پہلے سے پلان بناچکے ہیں۔
تحریر : یاسررسول
...............

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں