تاریخ اسلام میں بہت سے فتنوں نے جنم لیا جیسے خوارج کا فتنہ، معتزلہ کا فتنہ، باطنیہ کا فتنہ، قادیانی فتنہ اور انکار حدیث کے پرویزی جیسے فتنے وغیرہ وغیرہ۔ آج کے دور میں ایک نیا فتنہ "فتنہ غامدی" کے نام سے "الحادی قسم کی فکر "کے ساتھ مسلمانوں کو اصل دین اسلام سے کاٹ کر 'جعلی اسلام' تھما رہا ہے۔ دین میں ایسی ایسی نئی تشریحیں کر رہا ہے کہ جس پر ایمان لانے سے مسلمان ملحدانہ مغربی خیالات کا حامل ہوکر اصل دین اسلام سے مکمل کٹ جاتا ہے۔ آج کی تحریر کا موضوع یہی "فتنہ غامدی" ہے۔
اس سے پہلے کہ ہم غامدی کے فتنے کو سمجھیں، پہلے غامدی کا تھوڑا تعارف بھی ہوجائے تاکہ اس 'فتنہ پرور انسان” کی اصلیت بھی آپ کو معلوم ہوجائے۔
جاوید احمد غامدی کا اصلی نام اور نسب کیا ہے ؟
آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ جس شخص نے یہ فتنا پھیلایا ہوا ہے اس نے اپنا 'اصلی نام' اور 'اصلی نسب' بھی لوگوں سے چھپایا ہوا ہے۔ "جاوید احمد غامدی" کا اصل نام 'محمد شفق' ہے اوراس کا تعلق 'ککے زئی قبیلے' سے ہے۔ اس فتنہ پرور انسان نے فتنہ پھیلانے سے پہلے نا صرف اپنا نام تبدیل کیا بلکہ اپنا نسب بھی بدلا تاکہ لوگ اس کی اصلیت سے ناواقف ہوں۔
دشمن ایجنسیاں ہمیشہ اپنے بندے لانچ کرنے سے پہلے ان کی اصل شناخت بھی چھپاتی ہیں۔ آج یہ شخص 'محمد شفیق' المعروف "جاوید احمد غامدی" اپنا تعلق یمن کے ایک قبلے "غامد" سے بتاتا ہے اور اسی نسبت سے خود کو 'غامدی' کہلاتا ہے۔
کیا مسلمان اپنا نسب تبدیل کرسکتا ہے ؟
نسب تبدیل کرنا دین اسلام میں سختی سے منع ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا
یہ کفر ہے کہ آدمی ایسے نسب کا دعویٰ کرے جس کو وہ خود نہیں پہچانتا، یا اپنے نسب کی کسی چیز کا انکار کرے اگرچہ وہ معمولی قسم کی ہو
(ابن ماجہ، رقم 2744، مسند احمد 3/215، الصحیح 3370)
کیا غامدی عالم یا مفتی ہے جو دین اسلام کی تشریح کرتا ہے؟
جاوید احمد غامدی ایک ایسا فتنہ پرور آستین کا سانپ ہے جس نے زندگی میں کبھی کوئی 'دینی کورس' تک نہیں کیا، یہ نہ تو عالم ہے اور نہ ہی کسی مدرسے سے سند یافتہ یا فارغ التحصیل، لیکن یہ دین اسلام کی تشریحات ایسے کرتا ہے جیسے 'مفتی اعظم پاکستان' ہو ۔
افسوس اس بات پر بھی ہے کہ جو لوگ اس کی من گھڑت باتوں پر یقین کرتے ہیں انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ غامدی محض "بے اے "پاس ہے۔ جس شخص کے پاس دین کی کوئی ڈگری تک نہیں، نہ کسی مدرسے سے پڑھا، نہ درس نظامی کیا اور نہ ہی تجوید سیکھی،
وہ قرآن پاک کی تفسیر کیسے کرسکتا ہے؟
احادیث کے صحیح یا غلط ہونے کا کیسے فیصلہ کرسکتا ہے؟
شعائر اسلام کی نئی تعبیریں کرنے کا حق اس کو کس نے دیا؟
کیا دین اسلام اتنا لاوارث ہوگیا کہ آج یہ لفنگا اٹھ کر قرآن کی من مانی تفسیر کرتا پھر رہا ہے؟
علماء اس فتنے کے خلاف اعلان جہاد کیوں نہیں کرتے؟
جاوید غامدی کو کس جماعت نے 'کثرت سے جھوٹ' بولنے کی وجہ سےنکالا تھا ؟
جاوید احمد غامدی 1970 کے عشرے میں چند برس 'جماعت اسلامی' کے رکن رہے، مولانا مودودی سے بہت متاثر تھے، جماعت اسلامی کے بقول جب غامدی پارٹی میں تھے تو بہت جھوٹ بولتے تھے، یہاں تک مولانا مودودی نے خود بھی اس کے جھوٹ پکڑے تھے، اکثر اوقات جب کبھی ملاقات میں کسی کتاب کا حوالہ دیا جاتا ،چاہے وہ کتاب اس دنیا میں موجود ہی نہ ہو، پھر بھی غامدی فوراََ جھوٹ بول دیتا کہ 'میں نے وہ کتاب پڑھ رکھی ہے'، اسی جھوٹ در جھوٹ بولنے کی عادت پر جماعت اسلامی نےاس کے خلاف تحقیقاتی کمیٹی قائم کی اور مولانا مودودی کے مشورے پر اسے پارٹی سے نکال دیا گیا۔ جب پرویز مشرف نے ملک میں لبرل ازم کو فروغ دینا شروع کیا تو غامدی کی درخواست پر سن 2006 میں اسے کچھ عرصے کے لیے 'اسلامی نظریاتی کونسل' کا ممبر بھی لگایا گیا تھا۔ آجکل یہ فتنہ پرور انسان پاکستان سے بھاگ کر بیرون ملک مقیم ہے۔
غامدی کا طریقہ وارداد قادیانیوں جیسا ہی ہے
غامدی کہتا ہے کہ میرا علماء اسلام بالخصوص اہل سنت سے کوئی حقیقی اختلاف نہیں محض "تعبیر" کا اختلاف ہے ورنہ میں خود بھی اہل سنت بلکہ احناف سے ہی ہوں۔ قارئین غامدی اسی لفظ "تعبیر" کے زریعے لوگوں کو دھوکہ دیتا ہے۔ یہ "تعبیر کا وہی طریقہ" اپناتا ہے جو اس سے پہلے قادیانیوں کے جھوٹے نبی "غلام احمد قادیانی" لعنتی نے اپنایا تھا۔ "تعبیر" کے زریعے قادیانیوں نے بہت سے مسلمانوں کو دین اسلام سے بدظن کرکے قادیانی بنایا، ٹھیک اسی طرح جاوید احمد غامدی بھی شعائر اسلام اور قرآن و احادیث کی 'نت نئی من گھڑت تعبیریں' کرکے مسلمانوں کو اصل اسلام سے کاٹ کر جعلی اسلام تھما رہا ہے۔
عام آدمی اس تعبیر کے کھیل کو سمجھ نہیں پاتا۔ اس کو سمجھنے کے لیے ایک چھوٹی مثال دیتا ہوں۔ قادیانی بھی قرآن پاک کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر انہوں نے قرآن کے لفظ"خاتم النبیین" کی غلط 'تعبیر' کرکے نہ صرف اپنے لیے جھوٹی نبوت کا دروازہ کھولا بلکہ وہ اپنی اس حرکت سے 'غیر مسلم' بھی قرار پائے۔اسی طرح غامدی بھی شعائر اسلام کی 'نت نئی تعبیریں' کرکے لوگوں کی کچھ اس طرح برین واشنگ کرتاہے کہ آج کا مسلمان 14 سو سال کے پہلے اصل اسلام کو چھوڑ کر لبرل آزاد خیال بن جائے، یعنی مرضی ہو تو نماز پڑھو ورنہ نہ پڑھو، گرمی لگتی ہے تو روزہ چھوڑ دو جیسی من گھڑت تعبیرات کو اسلام کا لیبل لگاکر پھیلا رہا ہے۔ جبکہ کفار کے خلاف جہاد کا یہ سرے سے انکار کرچکا ہے۔
غامدی نے کوئی دو تین باتوں پر غلط تعبیریں نہیں کیں بلکہ 'پورے دین اسلام' کو ہی الٹا بناکے پیش کیا ہے۔ مسلمان کا جن چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے اس میں بھی غلط تعبیریں کرکے مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ مثال کے طور پر قرآن پاک میں اللہ کا فرمان ہے کہ "جنت میں صرف مسلمان جائیں گے" یعنی کوئی بھی غیر مسلم جب تک 'کلمہ' نہیں پڑھ لیتا، جنت میں نہیں جاسکتا چاہے کتنے ہی نیک اعمال کرے لیکن غامدی کہتا ہے کہ دوسرے مذاھب کے لوگ یعنی یہودی، عیسائی اور ہندو بھی اچھے عمل کرنے پر جنت میں جائیں گے چاہے مرتے دم تک اپنے مذھب پر قائم رہیں۔
غامدی نے مسلمان کا ایمان کمزور کرنے کے لیے، قرآنی آیات کی غلط تعبیریں کیں، حدیث و سنت کا من گھڑت مفہوم بیان کیا، عبادات پر شکوک و شبہات پیدا کیے، مسلمان معاشرے کے اسلامی احکامات اور ریاست یہاں تک کہ 'فقہی مسائل' پر بھی اپنی من گھڑت تعبیریں (تشریحات) کی ہیں اور ان سب تعبیروں کو ملاکر غامدی نے ایک نیا' مذھب غامدیت' کھڑا کرکے اسے اسلام کا نام دیا ہے جو کہ ہرگز اسلام نہیں ہے کیونکہ اس کے عقائد 1400 سال سے قائم اسلامی عقائد سے 90 فیصد مختلف ہیں۔ ایک 'بے اے 'پاس شخص مسلمانوں کو دین اسلام کے ایسی ایسی تعبیریں سنا رہا ہے جو اسلام کی 14 سو سال میں کسی نے نہیں سنائیں۔
(جاری ہے)
اگلی قسط میں ان شاء اللہ جاوید غامدی کے تمام عقائد و نظریات کا ایک ایک کرکے پوسٹ مارٹم کروں گا اور اس کے نظریات کا اصل اسلامی نظریات سے تقابلی جائزہ پیش کروں گا۔ آپ کو ثابت کرکے دکھاؤں گا کہ غامدی کا اسلام اصل اسلام سے بلکل الگ جبکہ قادیانی مذھب کے بلکل قریب بلکہ عین قادیانیت کا ہی دوسرا نام ہے۔
تحریر : یاسررسول





تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں