سندھ کی زمین پر ایک ایسا شہر آباد تھا جہاں ہزاروں سال پہلے لوگ باقاعدہ گلیوں میں چلتے، گھروں میں رہتے، کنوؤں سے پانی نکالتے اور گندے پانی کی نکاسی کے لیے منظم نظام استعمال کرتے تھے۔ یہ کوئی جدید دور کا شہر نہیں تھا۔ یہاں نہ بجلی تھی، نہ موٹر گاڑیاں اور نہ ہی جدید مشینیں۔ اس کے باوجود اس شہر کے منصوبہ سازوں نے ایسی شہری سہولتیں قائم کی تھیں جنہیں دیکھ کر آج بھی ماہرین حیران ہوتے ہیں۔ پھر وقت گزرتا گیا۔ شہر کی رونقیں ماند پڑنے لگیں، آبادی میں تبدیلی آئی اور ایک دن وہ شہری تہذیب اپنی سابقہ شکل میں باقی نہ رہی۔ یہ شہر تھا موئن جو دڑو، جو آج پاکستان کے صوبہ سندھ میں واقع ہے۔ لیکن اس کہانی کا سب سے دلچسپ پہلو یہ نہیں کہ یہ شہر کتنا ترقی یافتہ تھا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس تہذیب کے ساتھ ہوا کیا؟ کیا دریا نے اپنا راستہ بدل لیا تھا؟ کیا موسمی تبدیلیوں نے لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا؟ یا اس زوال کے پیچھے کئی عوامل ایک ساتھ کام کر رہے تھے؟ آثارِ قدیمہ ان سوالات کے اہم سراغ ضرور فراہم کرتے ہیں، مگر مکمل جواب اب بھی دستیاب نہیں۔ ایک ایسا شہر جو اپنے زمانے سے آگے تھا موئن جو دڑو وادیٔ سندھ کی قد...
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس