شاید آپ کو میری باتوں پر یقین نہ آئے یا آپ مجھ سے اتفاق نہ کریں اس لیے آپ کو آپ کے آئیڈیل مغڑبی ممالک کے ایک بڑے بیانڈ ہیلتھ کے چیئرمین اور سی ای اور ڈاکٹر ریمنڈ فرانسس کے اپنے الفاظ سناتا ہوں۔
ڈاکٹر ریمند فرانسس چیئرمن اور سی ای او بیانڈ ہیلٹھ کہتے ہیں
"بہت سے لوگوں کو نہیں معلوم، مگر یہ سچ ہے کہ پولیو ویکسین پولیو اور کینسر کا موجب ہے۔ ایک تاثر دیا جاتا ہے کہ پولیو ویکسین نے جنگلی پولیو وائرس کو دنیا سے تقریباََ ختم
کردیا ہے مگر جان لیں کہ جہاں ورلڈ ہیلتھ کے افسران پولیو پر فتح کا اعلان کر رہے ہیں، بلکہ تمام لوگ پولیو پر فتح کا اعلان کر رہے ہیں، وہیں سوئٹزرلینڈ میں ایک میٹنگ بلائی جارہی ہے جہاں پولیو ویکسین سے جنم لینے والی پولیو بیماری کے بارے میں بات کی جائے گی۔
پولیو ویکسین بذات کود دنیا میں پولیو کی بیماری پھیلانے کی سب سے بڑی وجہ ہے، اورپولیو ویکسین سے جنم لینے والی پولیو بیماری بڑھتی ہی جارہی ہے۔ سن 2010 میں انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شایع ہونے والی رپورٹ کے مطابق سن 2000 سے لیکر آج تک پولیو ویکسین سے جنم لینے والی "پولیو بیماری" ہر سال ایک سے دو گنا بڑھی ہی جارہی ہے۔ تھرڈ
ورلڈ (ترقی پذیر ممالک) میں پلائی جانے والی پولیو ویکسین خود زندہ پولیو وائرس سے تیار کی جاتی ہے جس سے پولیو بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اس ویکسین میں موجود وائرس بہت خطرناک جان لیوا بیماریوں کا سبب بھی ہوسکتا ہے۔1999 میں امریکی حکومت نے امریکی عوام کے لئے پولیو ویکسین کے زندہ وائرس کے بجائے مردہ وائرس کے ویکسین کا استعمال شروع کردیا جب پولیو ویکسین سے متاثرہ بچوں کے والدین کی لابی نے تبدیلی کے کیس میں کامیاب ہوئے۔
اس ویکسین میں موجود وائرس بہت خطرناک جان لیوا بیماریوں کا سبب بھی ہوسکتا ہے۔1999 میں امریکی حکومت نے امریکی عوام کے لئے پولیو ویکسین کے زندہ وائرس کے بجائے مردہ وائرس کے ویکسین کا استعمال شروع کردیا جب پولیو ویکسین سے متاثرہ بچوں کے والدین کی لابی نے تبدیلی کے کیس میں کامیاب ہوئے۔
تو یہ پولیو کے خلاف کس قسم کی فتح ہے ؟؟؟
گلوبل ویکسین انسٹٹیوٹ کے نیل ملر کی 2004 کی رپورٹ کے مطابق پولیو ویکسین میں پائے جانے والے پولیو کے زندہ وائرس بچوں کے گلے میں دو ہفتے تک رہتا ہے اور ان کے فضلے میں دو مہینے تک رہتا ہے جس کی وجہ سے جن بچوں کو ویکسین پلائی جاتی ہے نہ صرف انہیں پولیو بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے بلکہ انہی بچوں سے دوسرے بچوں کو یہ بیماری پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
چلیں ہم تھوڑی دیر کے لیے نئے ویکسین پلائے گئے بچوں کو نظرانداز کردیتے ہیں، ان لوگوں کے بارے میں کیا خیال ہے جنہیں کئی دہائیاں پہلے یہ ویکسین پلائی گئی ہے، جیسے کہ آپ اور میں؟ سن 2002 میں جرنل لیسنٹ نے ایک بہت ہی مدلل اور پراثر ثبوت شایع کیا کہ زندہ وائرس سے تیار کئے گئے پولیو ویکسین ہر سال "نان ہاجین لمفوما" (خون کے کینسر) کے 55،000 کیسز میں سے آدھے (یعنی تقریباََ 27،500) کیسز پولیو ویکسین کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ یعنی جو ویکسین آپ کو اور مجھے دہائیاں پہلے پلائی گئی تھی ان میں سے ہر سال خون کے کینسر کے تقریباََ ہر سال 27،500 کیسز اسی پولیو ویکسین کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ مزید براں پولیو ویکسین بہت خطرناک بیماریوں جیسے دماغ، ہڈیوں اور پھیپھڑوں کا کینسر کا سبب بنتی ہے۔
پولیو ویکسین کتنی جان لیوا ہے اسکا ثبوت 1994 میں اس وقت سامنے آیا جب لایووا یونیورسٹی کے ریسرچر "ڈاکٹر مشل کاربون" نے "وائرس ایس وی 40" کی تشخیص کی جو کہ اس سے پہلے تاریخ میں کبھی بھی انسانوں میں نہیں پایا گیا تھا اور یہ وائرس انسانوں کے پھیپھڑوں کے "کینسر ٹیومر" میں موجود پایا گیا۔ اس کے بعد سے 60 مختلف لیبارٹری تحقیق نے اسے ثابت کیا کہ یہ وائرس "ایس وی 40" انسانوں کے مختلف کینسر کیسز میں پایا گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ "SV 40" وائرس دنیا میں آیا کہاں سے؟
دراصل یہ وائرس اس بندر کے ٹشو میں موجود پایا گیا جسے "پولیو ویکسین" بنانے کےلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ پھر بار بار کی تحقیق سے یہ بات واضع ہوگئی کہ پولیو ویکسین میں "ایس وی 40 وائرس" موجود ہے۔
ان تمام تحقیقات کے بوجود بیماریوں کی روک تھام کی انڈسٹریاں اس بات پر مصر ہیں کہ پولیو ویکسین ایک محفوظ ویکسین ہےکیونکہ اس ویکسین سے ان کا کھربوں کا کاروبار منسلک ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ویکسین نہ تو محفوظ ہے اور نہ ہی کارآمد۔ ایسی کوئی سائنسی تحقیق موجود نہیں جو یہ ثابت کرسکے کہ یہ ویکسین ان بیماریوں کے خلاف کارآمد ہے جن کےلیے استعمال کی جاتی ہے جبکہ اس "پولیو ویکسین" کے خلاف ہزارہا ایسے شواہد موجود ہیں کہ یہ ویکسین محفوظ نہیں۔اس لیے آپ جو چاہیں کریں، میں نہ اس ویکسین کے حق میں ہوں نہ اسے ریکمینڈ کرتا ہوں۔ مختصراََ اتنا کہوں گا کہ یہ پولیو ویکسین بہت ہی زیادہ خطرناک ہے۔
المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے حکمران پیسے کے پجاری ہوتے ہیں جو صیہونیوں کی عالمی نسل کشی پلان کے لیے کام کرنے والے بل گیٹس سے پیسے لیکر پولیو ویکسین پاکستانی بچوں کو پلانے پر تیار ہوجاتے ہیں۔ یہ دیکھتے ہی نہیں کہ جو ویکسین پلائی جارہی ہے اس کے اندر ہے کیا اور اس کا فائدہ بھی ہے یا نہیں۔ بس کروڑوں ڈالرز کے چکر میں بنا کسی چیک کیے تمام پاکستانی بچوں کو پلائی جارہی ہے۔ بل گیٹس ہر بچے کے حساب سے حکومت کو ڈالرز دیتا ہے اس لیے پاکستانی اندھے حکمران پولیو کو زبردستی بھی پلاتے ہیں، آپ نوٹ کریں کہ خسرہ یا ٹی بی جیسی بیماریوں کے خاتمے کے لیے نہ تو حکومت کوئی زبردستی کرتی ہے نہ ہی "بل گیٹس"پیسے دیتا ہے لیکن پولیو پلانے کے بدلے فوراََ کروڑوں ڈالرز دے دیتا ہے اور حکومت بھی زبردستی پولیو پلانے نکل پڑتی ہے؟ آخر کیوں؟
کیونکہ پولیو سے انسانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے، عالمی آبادی کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ بل گیٹس اپنے کئی خطابات میں بھی یہ اعلانیہ کہہ چکا ہے ہم دنیا کی آبادی کو کم رکھنے کے لیے ویکسین کا استعمال کررہے ہیں لیکن اس نے کبھی اس ویکسین کا نام نہیں بتایا لیکن میں آپ کو بتادیتا ہوں کہ وہ ویکسین کوئی اور نہیں یہی
"پولیو ویکسین" ہے۔
تحریر: یاسررسول








تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں