پولیو ویکسین... فائدہ یا نقصان؟ حقیقت کیا ہے؟ جانیے
کیا اتنی کم مقدار کی بیماری کے لیے امریکہ کا پاکستان کی حکومت کو کروڑوں ڈالر دینا اچھنبے کی بات نہیں ہے...؟
پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف کفار مل کر ہر سمت سے حملہ آور ہوچکے ہیں، وہ ثقافتی حملہ ہو یا زمینی حملہ، وہ مذہبی حملہ ہو یا دنیاوی حملہ، وہ ہر طرح سے مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
امریکہ کافی عرصہ سے اس کوشش میں ہے کہ صرف پاکستان کی ہی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کی آبادی کو بڑھنے سے روکا جائے. اس سلسلے میں اس نےکئی اقدامات کیے ہیں، ان میں کچھ تو فیملی کو کنٹرول کرنے والی ادویات ہیں اور ان ادویات میں بھی جہاں اور بہت سے مفاسد ہیں وہاں یہ بھی کہ یہ ادویات عورت کی صحت کے لیے زہرِ قاتل ہیں. جو عورتیں ان کا استعمال ہر مہینہ کرتی ہیں وہ اگر پانچ سال بعد بچہ حاصل کرنے کی کوشش کریں تو ان کے لیے یہ عمل ناممکن ہو چکا ہوتا ہے. حمل تو ٹھہر جاتا مگر وہ بہت کمزور ہوتا ہے کوئی بھی سخت کام کرنے سے ضائع ہوجاتا ہے. اس طرح کے بےشمار کیسز سامنے آچکے ہیں۔ مگر ان کو استعمال کرنے کی پھر بھی ترغیب دی جاتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب ادویات مانع حمل والی عورت کی دشمن ہیں یہ ایسا کام کرتی ہیں جو اللہ کے بنائے نظام کے کو خراب کرنے کا سبب بنتی ہیں اس پر بھی بہت بات کی جاسکتی ہے مگر ساتھ ساتھ کرتے رہیں گے ان شاءاللہ۔
پاکستان میں ایک ایسی بیماری "پولیو" بھی پائی جاتی ہے جو اپنے نقصان کے لحاظ سےبہت کم ہے یعنی پاکستان میں وہ بیماری لاکھوں بچوں میں سے شاید کسی ایک کو ہوگی. اس سال کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پولیو کی بیماری کے 13 کیس سامنے آئے ہیں مگر اتنی کم مقدار کی بیماری کے لیے امریکہ کا پاکستان کی حکومت کو کروڑوں ڈالرز دینا اچھنبے کی بات ہے اور صرف یہی نہیں اس کی ویکسین بھی امریکہ فری مہیا کرتا ہے اور پاکستان کی حکومت بھی اس ویکسین کو بچوں کو پلانے میں بہت سرگرم ہوتی ہے، ہر گھر میں جاکر طاقت کے زور پر بھی اس ویکسین کو پلانے کی کوشش کی جاتی ہے. اگر کوئی انکار کردے تو پولیس کی دھمکیاں ہی نہیں دی جاتی بلکہ باقائدہ پولیس آتی بھی ہے،
اب یہ شدید حیرت کی بات ہے کہ ایک ایسی بیماری کہ جو اتنی کم مقدار میں پائی جاتی ہے اس کے لیے اتنا اہتمام آخر کیوں کیا جاتا ہے؟؟؟
پولیو کے علاوہ جو بیماریاں پاکستان کی پہچان بن چکی ہیں ان کی ویکسین یا علاج ہزاروں لاکھوں میں کیا جاتا ہے؟ آخر امریکہ کو کیوں پاکستان کی عوام پر اتنا ترس آیا کہ وہ کروڑوں ڈالر بھی دیتا ہے اور دوائی بھی مفت دیتا ہے کہ پاکستان کی عوام صحت مند رہیں؟؟؟؟
نہیں بلکہ امریکہ جو مسلمانوں کا ابدی دشمن ہے وہ بیماری کو ختم کرنے کی آڑ لے کر اپنے ناپاک مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ وہ پاکستان میں اس ویکسین کے ذریعے بیماریوں کا جال پھیلا رہا ہے۔ اس کی مثال یہاں سے آسانی سے سمجھ آئے گی کہ جب پاکستان میں 70ء کی دہائی میں "چیچک" کا مرض پھیلا تھا تو امریکہ نے اس کی ویکسین پاکستان پہنچائی اور اس میں موجود جراثیم کی وجہ سے جو بیماری پھیلی اسے آج "ہیپاٹائٹس" کے نام سے جانا جاتا ہے
اور میں یہ ہوائی بات نہیں کر رہا بلکہ اس ڈاکٹر صاحب کی تحقیق بتا رہا ہوں جو امریکہ سے ہی ڈاکٹریٹ کی ڈگری لے کر آئے ہیں ان کی تحقیق کے مطابق اس مرض کے جراثیم اس ویکسین میں شامل کیے گے تھے اور یہ ان کفار کی مستقبل کی پلاننگ تھی کہ پھر بعد میں ہم ہی اس بیماری کی دوا پاکستان کی مارکیٹ میں فروخت کرسکیں اور اس بدلے کروڑوں ڈالر کماسکیں.
آج امریکہ پاکستان کو ہیپاٹائٹس کی دوا مہیا تو کر رہا ہے مگر اس کی بہت زیادہ قیمت وصول کر رہا ہے. یہ بات ہر کوئی جانتا ہوگا کہ ہیپاٹائٹس کے ٹیکوں کا کورس ہزاروں میں پورا ہوتا ہے اور پھر بھی کوئی گاڑنٹی نہیں دی جاتی کہ مریض صحتیاب ہوگا یا نہیں.
اب آتے ہیں اُس بیماری کی طرف جو پاکستان میں بہت کم پائی جاتی ہے مگر اس کے خاتمے کے لیے امریکہ کروڑوں ڈالر دے رہا ہے تو جناب وہ بیماری ہے پولیو!
اس بیماری کی آڑ میں یہ کفار پاکستان کے بچوں کو شروع سے ہی بےکار بنا رہے ہیں، اس کی ویکسین میں ایسے جراثیم پائے گئے ہیں جو مرد اور عورت دونوں کے مادہ تولید کو نقصان پہنچانتے ہیں اورجب یہ نسل بڑی ہوگی تو اس کے نقصانات سامنے زیادہ واضح ہوکر آئیں گے. فلحال سبھی اس بات کا انکار کرتے نظر آتے ہیں۔ جن سے بات کرو وہی کہتا ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔
میرے ایک دوست جو کہ ایلو پیتھک ادویات بناتے ہیں انہوں نے اپنی فیکٹری میں بنی لیباٹری میں پولیو ویکسین کے قطروں کا ٹیسٹ کیا تو اس میں انہوں نے ایسے جراثیم پائے جو کہ مادہ تولید کے لیے نقصان دہ تھے، ان کو بھی کسی اور دوست نے ہی بتایا تھا کہ یہ پولیو ویکسین کی مدد سے ایسا ظلم کر رہے ہیں تو انہوں نے تصدیق کے لیے خود بھی ٹیسٹ کیے۔
یہ اتنی کم مقدار میں پائی جاتی ہے اور اس کے خلاف کتنے اہتمام اور وسائل کے ساتھ میدان میں کودا جاتا ہے اور جو بیماریاں بہت زیادہ پاکستان کے باسیوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں ان کی قیمت منہہ مانگی وصول کی جارہی ہے. کیا یہی ہے ان کفار کی پاکستان عوام کے ساتھ نام نہاد ہمدردی ؟؟؟
یہ ہمدردی نہیں ہے بلکہ دشمنی ہے اور دشمنی بھی مکارانہ. اس ویکسین کے نام پر بیماریاں پھیلائی جارہی ہیں، یہ کفار مسلمانوں کے جانی دشمن ہیں یہ کبھی بھی مسلم کے وفادار یا کہہ لیں ہمدرد نہیں ہوسکتے۔
کبھی آپ نے سوچا کہ جو کفار شام، عراق، لبیا، یمن اور افغانستان میں جن مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں، انہیں ان ہی مسلمانوں کے بچوں کی اتنی فکر کیوں ہونے لگی کہ ایک تو کروڑوں ڈالرز بھی دیتے ہیں اوپر سے ویکسین بھی خود بناکے مفت فراہم کرتے ہیں؟؟
ذرا نہیں پورا سوچئے....!!

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں