ﺁﺝ ﮐﯽ ﭘﻮﺳﭧ ﻓﻼﺣﯽ ﻣﻘﺼﺪ ﻟﮯ ﻟﯿﮯ ﻟﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺑﺪﻭﻟﺖ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﻧﮑﺸﺎﻓﺎﺕ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺁﭖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ. ﺑﭽﮯ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ میں دشمنوں کے ساتھ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ سمجھوتہ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ،ﭼﺎﮨﮯ ﻭﮦ ﺻﺤﺖ، ﺧﻮﺭﺍﮎ ﯾﺎ ﺍﺩﻭﯾﺎﺕ ویکسین ﮨﻮﮞ.
پولیو ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ؟
ﭘﻮﻟﯿﻮ ﺍیک ﺍﯾﺴﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻭﺍﺋﯿﺮﻝ ﺍﭨﯿﮏ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ اور یہ جنگلی بندر میں موجود ایک ﻭﺍﺋﺮﺱ ﺳﮯ ﭘﮭﯿﻠﺘﯽ ﮨﮯ، ﺟﺲ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺎﺕ ﭨﺎﻧﮕﻮﮞ، ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﻮﮐﮫ ﮐﺮ ﺑﮯ ﺟﺎﻥ ﮨﻮ جانا ہیں.
ﭘﻮﻟﯿﻮ ﻭﮦ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ویکسین ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ. ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﺝ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ویکسین بطور ڈﺭﺍﭘﺲ ﯾﺎ سرنج ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔.
سوال یہ ہے کہ ﮐﯿﺎ یہ ﻭﯾﮑﺴﻦ ﯾﺎ ﺍﻧﺠﯿﮑﺸﻦ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻧﺴﻠﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ مفید ﺑﮭﯽ ہے ﯾﺎ اس کے ذریعے دشمن مسلمان کو خاموش زہر دیکر قتل کر رہے ہیں ؟؟؟
یہ کون نہیں جانتا کہ اقوام متحدہ عالمی صیہونیوں کا ادارہ ہے اور آپ کو یہ جان کر حیرانگی ہوگی کہ ہمارے ملک میں 90 فیصد پولیو ویکسین یہی اقوام متحدہ اپنے کارندے بل گیٹس کے ذریعے بھیجتا ہے جبکہ 10 فیصد حکومت خود خریدتی ہے. اور مزید حیرانگی کی بات یہ ہے کہ جو ویکسین ہماری اگلی نسل یعنی پاکستانی بچوں کو پلانے کے لیے بھیجی جاتی ہے اس پر امریکہ و برطانیہ نے امریکن بچوں کو پلانے پر پابندی لگا رکھی ہے کیونکہ بقول امریکی حکومت یہ ویکسین زہر ہے اس کا فائدہ نہیں بلکہ الٹا نقصان ہے اور اس کی جگہ امریکہ نے محفوظ ویکسین تیار کروائی جو کہ سرنج کے ذریعے بچوں کو دی جانے لگی لیکن پاکستان میں حکمرانوں کی نااہلی اور عدم توجہ کی وجہ سے آج بھی بچوں کو وہی قاتل ویکسین پلائی جارہی ہے.
ﮨﻢ ﭘﻮﻟﯿﻮ ﻭﯾﮑﯿﺴﯿﻦ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻧﮩﯿﮟ لیکن ہم چاہتے ہیں کہ زہریلی ویکسین پر پابندی لگاکر محفوظ ویکسین انجیکشن کی صورت میں دینے کا آغاَ کیا جائے.
ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﯽ لیبارٹری یا سائنسی تحقیقی ادارہ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﻮ ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﺳﮑﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﭘﻮﻟﯿﻮ ﻭﯾﮑﺴﯿﻦ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ ؟ ﯾﮧ ﮐﺘﻨﯽ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﮯ؟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻓﻮﺍﺋﺪ ﯾﺎ ﻧﻘﺼﺎﻧﺎﺕ ﮐﺘﻨﮯ ﮨﯿﮟ؟
ﺍﻭﺭ ﺍﮎ ﺍﻟﻤﯿﮧ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ڈرگ ریگیولیٹری ﺍﺗﮭﺎﺭﭨﯽ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﯾﮧ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﺩﻭﯾﺎﺕ ﺑﻨﺎ ﭨﯿﺴﭧ ﮐﯿﮯ ﻋﻮﺍﻡ ﺗﮏ نہ ﭘﮩﻨﭽﺎﺋﯽ ﺟﺎئیں، ﭘﺮ ﺍﻓﺴﻮﺱ پولیو ویکسین کے بارے میں کوئی ٹیسٹ نہیں کیےا جاتے.
ﭼﻨﺪ ﺳﻮﺍﻻﺕ جن کے جواب کوئی نہین دیتا :
ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﯽ ویکسینیشن ﺍﺩﻭﯾﺎﺕ ﺻﺮﻑ ایک ﺑﺎﺭ ہی ﭘﻼﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﭘﻮﻟﯿﻮ ﻭﯾﮑﺴﯿﻦ ہمارے بچوں کو ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ کیوں دیتے جاتے ہیں ؟
صرف پانچ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﯽ ﭘﻮﻟﯿﻮ ﻭﯾﮑﺴﯿﻦ ﮐﯿﻮﮞ؟ ﯾﺎ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﺟﻮ ﻣﻠﮏ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ؟؟؟
ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻭﯾﮑﺴﯿﻦ ﮐﻮ ﭘﻼﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﮑﻤﻞ ریکارڈ رکھا جاتا ﮨﮯ ﭼﺎﮨﮯ ﮔﻮﺭﻧﻤﻨﭧ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﮨﻮ ﯾﺎ ﭘﺮﺍﺋﯿﻮﯾﭧ ﮨﻮ ﭘﺮ ﺭﯾﮑﺎﺭڈ ﻻﺯﻣﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﭘﻮﻟﯿﻮ ﻭﯾﮑﺴﯿﻦ ﮐﺎ ﺭﯾﮑﺎﺭڈ ﮐﯿﻮﮞ نہیں ہے ؟؟؟؟؟
ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﮩﻠﮏ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﺎﮞ ﺑﮩﺖ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺑﮍ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﮨﯿﭙﺎﭨﺌﯿﭩﺲ، ﮐﯿﻨﺴﺮ یا ایڈز ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺗﻮ بل گیٹس صرف پولیو ویکسین ہی کیوں دیتا ہے؟ پولیو سے بھی بڑی بیماریوں کے لیے ویکسین کیوں نہیں دیتا؟
ﭘﻮﻟﯿﻮ ﮐﮯ ﻗﻄﺮﮮ نہ ﭘﻼﻧﮯ ﭘﺮ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﺎ ﺟﯿﻞ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮐﯿﻮﮞ، ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻣﮩﻠﮏ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ایسی پھرتی کیوں نہیں؟ اس منافقانہﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ؟
ﻣﯿﺮﮮ نزدیک پولیو ویکسین بائیولاجی جنگ ہے ﺟﻮ عالمی صیہونی بل گیٹس کے ساتھ مل کر دنیا سے مسلمانوں کی تعداد کم سے کم کرنے کے لیے نسل کشی کے ایجنڈے کے ساتھ بچوں کو زبردستی پلوارہے ہیں. ویکسین کے ذریعے نسل کشی کا اعتراف خود بل گیٹس اپنے کئے انٹرویوز اور پبلک ٹاک میں بھی ک چکا ہے اور یہ پولیو ویکسین بھی اسی نسل کشی پلان کا حصہ ہے.
ﭘﻮﻟﯿﻮ ﮐﮯ ﺩﻭ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﻋﻼﺝ ﮨﯿﮟ
OPV - (اورل پولیو ویکسین)
IPV - (انیکٹو پولیو ویکسین)
بائیولاجی کے مشہور عالمی ڈاکٹر اور بیانڈ ہیلتھ انسٹیٹوٹ کے سی ای او اور چیئرمن ڈاکٹر ریمنڈ فرانسس کا کہنا ہے کہ
اقوام متحدہ کی فراہم کی ہوئی پولیو ویکسین خاموش زہر ہے اور یہ انسانی جسم میں کینسر اور پولیو کو مزید پھیلاتی ہے کیونکہ اس ویکسین کے خود زندہ پولیو وائرس موجود ہے جو ہر اس بچے کے جسم میں داخل کیا جارہا ہے جسے کبھی پولیو ہوا ہی نہیں. بچے کے جسم میں پولیو وائرس داخل کرنے سے بچے کا پولیو زندہ ہونے کا امکان بہت بڑھ جاتا ہے جبکہ اس وائرس سے خون کا کینسر بھی ہوتا ہے۔".
پنجاب پولیو کے انجچارج ڈائریکٹر ڈاکٹر منیر احمد سے جب پولیو بارے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا :
جو پولیو ویکسین بچوں کو پلائی جاتی ہے اسے کبھی ٹیسٹ نہیں کیا گیا، باہر سے آتی ہے اور بنا ٹیسٹ کیے بچوں کو پلادی جاتی ہے۔
اوپر دو طرح کی پولیو ویکسین کا ذکر کیا جس میں سے اورل پولیو ویکسین جو قطروں کی صورت میں پلائی جاتی ہے، میں زندہ پولیو وائرس ہوتا ہے اور یہ بچوں میں کینسر پیدا کرتا ہے جبک دوسری قسم کی انیکٹو پولیو ویکسین صرف سرنج کے زریعے دی جاتی ہے اور اس میں مردہ پولیو وائرس ہوتا ہے. بتانے کا مقصد پہلی قسم یعنی OPV خاموش زہر ہے جبکہ دوسری قسم IPV محفوظ ویکسین ہے. امریکہ برطانیہ میں صرف محفوظ ویکسینIPV ہی پلائی جاتی ہے جبکہ مسلمان ممالک بشمول پاکستان میں غیر محفوظ ویکسین OPV دی جاتی ہے.
محترم والدین ۔ ۔ ۔ !
سوچئے اور خوب غور کیجیے کہ کہیں آپ اپنے بچوں کو زندگی دینے کے بجائے خود ہی پولیو قطروں کے نام پر زہر تو نہیں پلوا رہے؟
والدین کو حکومت سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ بچوں کو پولیو ویکسین دینی ہی ہے تو صرف انجیکشن کے زریعے IPV یعنی اینکٹو پولیو ویکسین دی جائے ورنہ ہم بچوں کو قطروں والی OPV یعنی اورل پولیو ویکسین پلاکے اپنے ہاتھوں سے خود موت نہیں دے سکتے. جب امریکہ اور برطانیہ بھیOPV پر پابندی لگاچکے ہیں تو ہمیں کس پاگل کتے نے کاٹا ہے جو ہم ابھی تک اپنے بچوں کو وہی پرانی قاتل ویکسین پلائیں ۔ ۔ ۔ !
تحریر : محمد ناظم شہزاد
(ممبر ٹیم : ففتھ جنریشن فائٹرز)

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں