پولیو ویکسین OPV خاموش زہر


پولیو ویکسین وہ نہیں جو آپ کو بتایاجاتا ہے بلکہ یہ ایک خطرناک جان لیوا کیمیائی جنگی ہتھیار ہے۔ پولیو ویکسین خود پولیو اور کینسر کا موجب ہے۔

پولیو چھٹی نسل کی جنگی حکمت عملی کا حصہ ہے جسے کیمیائی جنگ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے صیہونی دنیا کے امیر ترین شخص بل گیٹس کے ساتھ مل کر آبادی کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ پولیو قطرے پولیو سے بچاتے نہیں بلکہ خود پولیو اور کینسر کی بیماریاں پھیلاتے ہیں اور یہ بات میں محض اندازے سے نہیں کہہ رہا بلکہ ہزارہا سائنسی تجربات بھی اس بات کو ثابت کرچکے ہیں کہ پولیو قطروں کا فائدہ نہیں بلکہ الٹا نقصان ہے۔

جب امریکی عوام کو پتا چلا کہ پولیو ویکسین خود پولیو اور کینسر پھیلاتی ہے تو انہوں نے اس ویکسین پر پابندی کی بھرپور مہم چلائی اور بالآخر امریکی حکومت نے مجبور ہوکر سن 1999 میں امریکہ میں OPV پولیو ویکسین پر پابندی لگاکر نئی پولیو ویکسین IPV پلانا شروع کی۔ ایسا ہی ایک کیس ہمارے پڑوس بھارت میں بھی منظرعام پر آیا جہاں ایک شخص نے پولیو کے خلاف عدالت میں کیس گیا اور عدالت میں یہ بات ثابت ہوئی کہ پولیو ویکسین ہی دراصل پولیو بیماری پھیلاتی ہے جس کے بعد بھارت کی کچھ ریاستوں میں بھی پولیو پر پابندی لگادی گئی۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستانی حکمران پھر بھی نہیں جاگے۔

شاید آپ کو میری باتوں پر یقین نہ آئے یا آپ مجھ سے اتفاق نہ کریں اس لیے آپ کو آپ کے آئیڈیل مغربی ممالک کے ایک بڑے نام بائیولاجیکل ادارے بیانڈ ہیلتھ کے چیئرمین اور سی ای اور ڈاکٹر ریمنڈ فرانسس کے اپنے الفاظ سناتا ہوں۔

ڈاکٹر ریمند فرانسس چیئرمن اور سی ای او "بیانڈ ہیلتھ انٹرنیشنل" کہتے ہیں

"بہت سے لوگوں کو نہیں معلوم، مگر یہ سچ ہے کہ پولیو ویکسین پولیو اور کینسر کا موجب ہے۔ ایک تاثر دیا جاتا ہے کہ پولیو ویکسین نے جنگلی پولیو وائرس کو دنیا سے تقریباََ ختم کردیا ہے مگر جان لیں کہ جہاں ورلڈ ہیلتھ کے افسران پولیو پر فتح کا اعلان کر رہے ہیں، بلکہ تمام لوگ پولیو پر فتح کا اعلان کر رہے ہیں، وہیں سوئٹزرلینڈ میں ایک میٹنگ بلائی جارہی ہے جہاں پولیو ویکسین سے جنم لینے والی پولیو بیماری کے بارے میں بات کی جائے گی۔ پولیو ویکسین بذات خود دنیا میں پولیو کی بیماری پھیلانے کی سب سے بڑی وجہ ہے، اور پولیو ویکسین سے جنم لینے والی پولیو بیماری بڑھتی ہی جارہی ہے۔

سن 2010 میں انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شایع ہونے والی رپورٹ کے مطابق سن 2000 سے لیکر آج تک پولیو ویکسین سے جنم لینے والی "پولیو بیماری" ہر سال ایک سے دو گنا بڑھی ہی جارہی ہے۔

تھرڈ ورلڈ (ترقی پذیر ممالک) میں پلائی جانے والی پولیو ویکسین خود زندہ پولیو وائرس سے تیار کی جاتی ہے جس سے پولیو بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس ویکسین میں موجود وائرس بہت خطرناک جان لیوا بیماریوں کا سبب بھی ہوسکتا ہے۔

سن 1999 میں امریکی حکومت نے زندہ پولیو وائرس والے پولیو قطروں والی ویکسین یعنی "OPV" پر پابندی لگاکر "مردہ وائرس" والی "IPV" ویکسین کا استعمال شروع کردیا. ایسا اس لیے ہوا کہ وہاں پولیو ویکسین سے متاثرہ بچوں کے والدین کی لابی نے ویکسین تبدیلی کے کیس میں کامیاب حاصل کی۔

مسئلہ یہ ہے کہ جہاں پلائی جانے والی پولیو ویکسین، جسے "جنگلی پولیو وائرس" کے خلاف بچاؤ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے بذات خود جنگلی وائرس کی جگہ ایک ایسے "پولیو وائرس" سے بنائی جاتی ہے جو کہ اس جنگلی پولیو وائرس سے "زیادہ خطرناک" ہے جس سے بچاؤ کے خلاف استعمال ہورہا ہے۔ دراصل پولیو وائرس سے بچاؤ کا یہ طریقہ ایک بیماری کی جگہ دوسری بیماری کو جنم دیتا ہے بلکہ اس سے بھی خطرناک۔

تو یہ پولیو کے خلاف کس قسم کی فتح ہے ؟؟؟

گلوبل ویکسین انسٹٹیوٹ کے نیل ملر کی 2004 کی رپورٹ کے مطابق پولیو ویکسین میں پائے جانے والے پولیو کے "زندہ وائرس" بچوں کے گلے میں دو ہفتے تک رہتا ہے اور ان کے فضلے میں دو مہینے تک رہتا ہے جس کی وجہ سے جن بچوں کو ویکسین پلائی جاتی ہے نہ صرف انہیں پولیو بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے بلکہ انہی بچوں سے دوسرے بچوں کو یہ بیماری پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

چلیں ہم تھوڑی دیر کے لیے نئے ویکسین پلائے گئے بچوں کو نظرانداز کردیتے ہیں، ان لوگوں کے بارے میں کیا خیال ہے جنہیں کئی دہائیاں پہلے یہ ویکسین پلائی گئی ہے، جیسے کہ آپ اور میں؟

سن 2002 میں جرنل لیسنٹ نے ایک بہت ہی مدلل اور پراثر ثبوت شایع کیا کہ "زندہ وائرس" سے تیار کئے گئے پولیو ویکسین ہر سال "نان ہاجین لمفوما" (خون کے کینسر) کے 55,000 کیسز میں سے آدھے (یعنی تقریباََ 27,500) کیسز پولیو ویکسین کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ یعنی جو ویکسین آپ کو اور مجھے دہائیاں پہلے پلائی گئی تھی ان میں سے ہر سال خون کے کینسر کے تقریباََ 27،500 کیسز اسی پولیو ویکسین کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ مزید براں پولیو ویکسین بہت خطرناک بیماریوں جیسے دماغ، ہڈیوں اور پھیپھڑوں کا کینسر کا سبب بنتی ہے۔

پولیو ویکسین کتنی جان لیوا ہے اسکا ثبوت 1994 میں اس وقت سامنے آیا جب "لایووا یونیورسٹی" کے ریسرچر "ڈاکٹر مشل کاربون" نے "وائرس SV40" کی تشخیص کی جو کہ اس سے پہلے تاریخ میں کبھی بھی انسانوں میں نہیں پایا گیا تھا اور یہ وائرس انسانوں کے پھیپھڑوں کے "کینسر ٹیومر" میں موجود پایا گیا۔ اس کے بعد سے 60 مختلف لیبارٹری تحقیق نے اسے ثابت کیا کہ یہ وائرس "ایس وی 40" انسانوں کے مختلف کینسر کیسز میں پایا گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ "ایس وی 40" وائرس دنیا میں آیا کہاں سے؟
دراصل یہ وائرس اس بندر کے ٹشو میں موجود پایا گیا جسے "پولیو ویکسین" بنانے کےلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ پھر بار بار کی تحقیق سے یہ بات واضع ہوگئی کہ پولیو ویکسین میں "ایس وی 40 وائرس" موجود ہے۔

ان تمام تحقیقات کے بوجود بیماریوں کی روک تھام کی انڈسٹریاں اس بات پر مصر ہیں کہ پولیو ویکسین ایک محفوظ ویکسین ہے*کیونکہ اس ویکسین سے ان کا کھربوں کا کاروبار منسلک ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ویکسین نہ تو محفوظ ہے اور نہ ہی کارآمد۔ ایسی کوئی سائنسی تحقیق موجود نہیں جو یہ ثابت کرسکے کہ یہ ویکسین ان بیماریوں کے خلاف کارآمد ہے جن کےلیے استعمال کی جاتی ہے جبکہ اس "پولیو ویکسین" کے خلاف ہزارہا ایسے شواہد موجود ہیں کہ یہ ویکسین محفوظ نہیں۔ اس لیے آپ جو چاہیں کریں، میں نہ اس ویکسین کے حق میں ہوں نہ اسے ریکمینڈ کرتا ہوں۔ مختصراََ اتنا کہوں گا کہ یہ پولیو ویکسین بہت ہی زیادہ خطرناک ہے۔

المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے حکمران پیسے کے پجاری ہوتے ہیں جو صیہونیوں کی عالمی نسل کشی پلان کے لیے کام کرنے والے بل گیٹس سے پیسے لیکر پولیو ویکسین پاکستانی بچوں کو بنا ٹیسٹ کیے پلانے پر تیار ہوجاتے ہیں۔ یہ دیکھتے ہی نہیں کہ جو ویکسین پلائی جارہی ہے اس کے اندر ہے کیا اور اس کا فائدہ بھی ہے یا نہیں۔ بس کروڑوں ڈالرز کے چکر میں بنا کسی ٹیسٹ کیے تمام پاکستانی بچوں کو پلائی جارہی ہے۔ بل گیٹس ہر بچے کے حساب سے حکومت کو ڈالرز دیتا ہے اس لیے پاکستانی اندھے حکمران پولیو کو زبردستی بھی پلاتے ہیں، آپ نوٹ کریں کہ خسرہ، ٹی بی یا ایڈز جیسی بیماریوں کے خاتمے کے لیے نہ تو حکومت کوئی زبردستی کرتی ہے نہ ہی "بل گیٹس" پیسے دیتا ہے لیکن پولیو پلانے کے بدلے فوراََ کروڑوں ڈالرز دے دیتا ہے اور حکومت بھی زبردستی پولیو پلانے نکل پڑتی ہے؟ آخر کیوں؟

کیونکہ پولیو سے انسانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے، عالمی آبادی کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ بل گیٹس اپنے کئی خطابات میں بھی یہ اعلانیہ کہہ چکا ہے ہم دنیا کی آبادی کو کم رکھنے کے لیے ویکسین کا استعمال کررہے ہیں لیکن اس نے کبھی اس ویکسین کا نام نہیں بتایا لیکن میں آپ کو بتادیتا ہوں کہ وہ ویکسین کوئی اور نہیں یہی "پولیو ویکسین" ہے۔

تحریر: یاسررسول

تبصرے