بچے کو 2 سال میں 7 مرتبہ ویکسین پلائی گئی پھر بھی پولیو ہوگیا


ایک مرتبہ پھر پاکستان میں "پولیو مہم" شروع ہوگئی ہے، ویکسین پر ہمارے تحفظات دور کیے بغیر ہی دوبارہ زبردستی قطرے پلانا اس بات کا واضع ثبوت ہے کہ حکومت عوام کو سچائی نہیں بتانی چاہتی کیونکہ جس دن عوام کو سچائی معلوم ہوگئی تو کوئی بھی اپنے بچوں کو پولیو ویکسین پلانے ہی نہیں دے گا۔

کیونکہ ان پولیو قطروں کے اندر خود پولیو وائرس ڈال کے پلایا جاتا ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق ویکسینیشن زندگی میں ایک مرتبہ کروانے سے پوری زندگی وائرس سے بچاؤ ہوجاتا ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ پولیو ویکسین کو ہر دو ماہ بعد زبردستی پلائی جاتا ہے ؟

پولیو ویکسین کے حق میں بولنے والے حکومتی تنخوارہ دار ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ پولیو ویکسین کے زریعے ہم بچوں کے جسم میں "نیم مردہ حالت میں پولیو کا وائرس" ڈالتے ہیں تاکہ بچے کا جسم اس نیم مردہ حالت والے وائرس کو فورا  پہچان لے اور مار کر جسم کی ہسٹری میں اس وائرس کو اچھی طرح یاد کرلے تاکہ جب بچے کو ماحول سے کبھی بھی "اصل پولیو وائرس" حملہ کرے تو بچے کا جسم پہلے سے ہی اس وائرس کو اپنی ہسٹری میں دیکھ کر پہچان لے اور فورا اسے بھی ختم کردے۔ یہ پولیو ویکسین پلانے کے پیچھے اصل لاجچ ہے۔

اب میرا سوال ہے کہ جب ایک مرتبہ بچے کے جسم میں نیم مردہ حالت والا وائرس ڈال دیا گیا، بچے کے جسم کی ہسٹری نے بھی اسے اچھی طرح یاد کرلیا، اسے مار بھی دیا پھر اسی بچے کو دوبارہ وہی وائرس کیوں پلایا جاتا ہے جبکہ ہسٹری میں پہلے ہی محفوظ ہے ؟ 

ستم ظریفی تو یہ ہے کہ پاکستان میں دوبارہ تو کیا ایک ہی بچے کو 2 سال میں سات سے لیکر آٹھ مرتبہ تک زبردستی ویکسین پلائی جاتی ہے۔ کس لیے ؟

ویکسین کی مخالفت کرنے والے سائنسدان اور عالمی مفکر کہتے ہیں کہ جو نیم مردہ حالت والا وائرس بچوں کو پلایا جاتا ہے وہ زندگی میں کبھی بھی بچے کے جسم میں ہی دوبارہ مکمل زندہ ہوسکتا ہے ارو یہی زندہ ہوکر بچے کو پولیو زدہ کرسکتا ہے۔ یعنی بچے کو باہر کے ماحول سے پولیو وائرس لگے یا نہ لگے خود اس کے جسم میں جو وائرس داخل کیا گیا وہ بھی پولیو بیماری کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ شرع 20 لاکھ میں سے ایک بچے میں ممک بتائی جاتی ہے۔ پاکستان کی آبادی میں کتنے بچے ہیں آپ اس حساب سے انداز لگائیں کہ کتنے بچوں کی زدگی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ اگر ان میں سے کسی ایک بچے کو پولیو ہوجائے تو حکمران یہی کہتے ہیں کہ یہ ویکسین سے نہیں لگا بلکہ ماحول سے لگا ہے حالانکہ اس بات کی ثبوت میں وہ کوئی دلیل نہیں دے سکتے کیونکہ پاکستان میں اس ویکسین کو ٹیسٹ کرنے یا یہ معلوم کرنے کے لیے کہ بچے کو پولیو ویکسین سے لگا یا ماحول سے، کوئی جدید لیبارٹی ہی نہیں ہے۔

اب آپ یہ سکرین شاٹ خبر پڑھیں (تصویر اٹیک ہے)، لکھا ہے وزیرستان کے 2 سالہ بچے کو مسلسل 7 مرتبہ پولیو ویکسین پلائی گئی لیکن پھر بھی اسے پولیو ہوگیا۔ 

پتا ہے کیوں ہوا ؟ 

کیونکہ اس کے جسم میں پہلے سے ہی 7 مرتبہ داخل کیا گیا "نیم مردہ حالت کا پولیو وائرس" خود ایکٹویعنی زندہ ہوکر اس پر حملہ آور ہوگیا اور اسے پولیو بیماری لگ گئی۔

2 سال میں 7 مرتبہ ویکسین پلانے کی کونسا میڈیکل کا عالمی ادارہ اجازت دیتا ہے؟ خود اقوام متحدہ جو کہ پاکستان کو ویکسین فراہم کرتی ہے وہ بھی یہی کہتی ہے کہ کسی بھی بچے کو 4 مرتبہ سے زیادہ ویکسین ہرگز نہ پلائی جائے ورنہ الٹا نقصان ہوگا لیکن جناب یہ پاکستان ہے، یہاں حکمران اتنے اندھے بہرے گونگے ہیں کہ 2 سال میں ننہے بچوں کو 7 مرتبہ ویکسین پلاتے ہیں اور اگلے 3 سال تک تو نجانے یہ بچہ مزید کتنی مرتبہ ویکسین پلایا جائے گا وہ بھی زبردستی بندوق کی نوک پر۔ 

اصل دکھ اندھے بہرے حکمرانوں کا نہیں بلکہ ان کے حق میں مجھ سے لڑنے والے "عاشقان پولیو ویکسین" کا ہے جو یہ سب حقائق جانتے ہوئے بھی بھی مجھے قوم کے بچوں کو دشمن، فسادی اور نجانے کن کن القابات سے نوازدیتے ہیں۔ اگر قوم کے بچوں کو اس "مشکوک ویکسین" سے بچانے والا فسادی ہوتا ہے تو ہاں میں فسادی ہوں۔

تحریر: یاسررسول

نوٹ: ہمارا مطالبہ ہے پولیو ویکسین پر عوام کو سچ بتایا جائے۔ ویکسین کے اندر ہے کیا کیا موجود ہے، کس ملک سے بن کر آتی ہے، کونسی کمپنی بناتی ہے؟ آج تک کتے ڈوز پاکستان آئے اور کتنے ٹیسٹ کیے گئے؟ پاکستان میں کون ٹیسٹ کرتا ہے، ٹیسٹ کرنے کا سرٹیفکیٹ کہاں ہے؟ اگر حکمران آپ کو یہ سب حقائق بتانے کے بجائے الٹا فسادی، قوم کے بچوں کا دشمن کہیں تو سمجھ جائیں کہ حکمران ڈالروں کی لالچ میں آپ سے وہ تمام حقائق چھپانا چاہتے ہیں جو کہ میں اپنی پولیو تحاریر میں مسلسل آپ کے سامنے لاتا رہا ہوں۔۔

#PolioFacts
#PolioVaccineExposed
#YasirRasool

تبصرے