سب سے پہلے یہ سن لیں کہ نقیب اللہ شہید کے نام پرمنظورے نے جو جلسہ کیا اس میں نقیب اللہ کے والد، گھر والوں یا رشتہ داروں میں سے کسی نے بھی شرکت نہیں کی جس کا صاف مطلب ہے کہ نقیب اللہ کے وارثین بھی منظور پشتین کی ملک دشمنی کو اچھی طرح جان چکے ہیں ۔
ٹانگ میں کیے گئے جلسے میں اس دفعہ ایک خاص بات سامنے آئی ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ منظور پشتین نے روایتی طور پر پشتونوں کے حقوق کا رونا تو رویا لیکن اس دفعہ اپنے اصل مقصد کی طرف آیا جس کے لیے اس نے پوری "پشتون تحفظ موومنٹ" کا وجود کھڑا کیا تھا یعنی "سی پیک" کو سبوتاڑ کرنا۔
پچھلے کئی ماہ سے بتاتا آرہا ہوں کہ منظور پشتین کا پشتونوں کے تحفط سے کوئی تعلق نہیں، اس کا مقصد پشتونوں کو افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کے خلاف اکسا کر ایک الگ وطن "پختونستان" بنانا اور سی پیک (چائنہ پاک اکانومک کوریڈور) کو سبوتاڑ کرنا ہے۔
ٹانگ کے جسلے میں منظور پشتین نے سادہ لوح پشتونوں کو ورغلانے کے لیے کہا کہ "سی پیک صرف پنجاب کے لیے ہے پشتونوں کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ملے گا۔ یعنی پشتونوں اب سی پیک کے خلاف کھل کر کھڑے ہوجاؤ اور جتنا ہوسکے اسے روکنے کی کوشش کرو۔
ہم یہ تو جانتے ہیں کہ دنیا جہاں کی خفیہ ایجنسیاں سی پیک کو سبوتاڑ کرنا چاہتی ہیں لیکن وہ ایجنسیاں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے کس کو استعمال کرتی ہیں؟ سی پیک کو نقصان پہچانے کے لیے دشمن نے کئی پتے پھینکے بیک وقت ہیں۔ "ٹی ٹی پی خوارج" (جو اب خود کو داعش کہتی ہے) کے زریعے دہشت گردی اور منظور پشتین کے زریعے پشتونوں کو ورغلاکر سی پیک کے خلاف اتارنا بھی ان پتوں میں سے دو اہم اور خطرناک پتے ہیں۔
انڈیا اور امریکہ کئی مرتبہ پاکستان کو کھل کر دھمکیاں دے چکے ہیں کہ پاکستان کو اپنے کچھ حصے کھونے پڑیں گے۔ کچھ حصے کھونے کا مطلب یہی "آزاد پختونستان" تھا جسے منظور پشتین کے زریعے پرواں چڑھایا جارہا ہے۔ دشمن سمجھ بیٹھا تھا کہ منظورا اپنے مشن میں کامیاب ہوکر پختونستان کو پاکستان سے الگ کروا لے گا مگر پاکستان نے بھی بارڈر پر باڑ لگاکے اور افغانیوں کے لیے ویزا سسٹم متعارف کرواکے دشمن کے تمام منصوبے خاک میں ملا دیے
:منظور اور پاکستان دشمنوں کی خفیہ ڈیل
دشمنان اسلام و پاکستان کی خفیہ ڈیل یہ ہے کہ منظور اگر ہمارا ساتھ دے گا، پشتونوں کو ورغلاکے سی پیک کو سبوتاڑ کرنے میں کامیاب ہوگا تو بھارت، امریکہ اور اسرائیل اسے "آزاد پختونستان" بناکر اسے ملک کا سربراہ بنادیں گے"۔ اس گیم پلان میں منظور پشتین کا ماسٹر مائنڈ "محمود اچکزئی" ہے جس نے پشتون تحفظ موومنٹ کے منظرعام پر آنے سے پہلے یہ ڈیل اسرائیلی وزیراعظم "نیتین یاہو" کے ساتھ انڈیا میں بیٹھ کر کی تھی۔ اس ڈیل کے وقت پاکستانی عوام کسی منظور پشتین کو نہیں جانتے تھے لیکن اس ڈیل کے بعد ایک منظور اچانک نمودار ہوا اور پشتون تحفظ موومنٹ کے کروڑوں روپے کے جلسے ہونا شروع ہوئے۔ محمود اچکزئی نواز شریف کے ساتھ پلانگ کرکے منظور کو آگے سمجھاتا رہا جبکہ خود میدان میں نہیں اترا۔
جس وقت محمود اچکزئی خفیہ دورے پر انڈیا جاکر اسرائیلی وزیراعظم سے ڈیل کر رہا تھا اس وقت پاکستان میں نواز شریف وزیراعظم تھا، بار بار ایجنسیوں کی رپورٹ دینے کے باوجود بھی نواز شریف نے پشتون تحفط موومنٹ یا منظور پشتین کے خلاف کسی بھی ایکشن لینے سے صاف منع کیا بلکہ اگر آپ پی ٹی ایم لانچ ہونے کے بعد سے لیکر آج تک کے نواز شریف اور اس کی تمام ٹیم کے بیانات کھنگالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس پورے عرصے میں نواز شریف یا اس کے وزراء میں سے کسی نے بھی پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف ایکشن تو دور کی بات، نام تک نہیں لیا۔ یہ صاف ظاہر کرتا ہے نواز شریف اس ڈیل سے واقف تھا اور جان بوجھ کر خاموش رہتا تھا تاکہ محمود اچکزئی اپنے چیلے منظور پشتین کے زریعے کھل کر افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کو بدنام کرے۔ خود نواز شریف بھی تو اپنی بیٹی مریم نواز کے زریعے "ڈان لیکس" میں آئی ایس آئی کو دہشت گرد ایجنسی قرار دلواچکا تھا۔ یاد رہے محمود اچکزئی وہی ہے جس کے بارے میں نواز شریف کئی مرتبہ کہہ چکا ہے کہ یہ میرا "نظریاتی ساتھی" ہے۔
تحریر: یاسررسول

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں