باآخر امریکہ نے اسرائیل کو کھلی چھٹی دینے سے ہاتھ اٹھالیا۔ سلامتی کونسل میں پہلی مرتبہ غزہ جنگ بندی قرارداد منظور ہوگئی۔ یہ قرارداد اس لیے منظور ہوئی کیونکہ امریکہ نے ویٹو پاور استعامل نہیں کیا بلکہ ووٹنگ میں حصہ لینے سے انکار کردیا جس کا مطلب واضع تھا کہ امریکہ نے اسرائیل کو کھلی چھٹی دینے سے انکار کردیا ہے۔
اسکے علاوہ کینیڈا نے بھی اسرائیل کو جنگی سامان دینے سے انکار کردیا ہے جس پر نیتین یاہو نے کینیڈا اور امریکہ دونوں کو دھمکیاں دی ہیں۔
عالمی صیہونی میگزین دی اکانامکس نے بھی اپنے تازہ شمارے میں پیشگوئی کی ہے کہ اسرائیل پوری دنیا میں تنہاء ہوچکا ہے۔
ایک بات طع ہے کہ اندر سے کینیڈا، امریکہ اور مغربی ممالک اب بھی اسرائیل کے ساتھ ہیں لیکن 15000 معصوم بچوں کو بےگناہ قتل کرنے پر آخر انکے اندر کا ضمیر بھی جاگ گیا ہے۔ سب سے بڑھ کر ان ممالک کی عوام نے مسلسل اپنی حکومتوں کے خلاف احتجاج کرکے انہیں اسرائیل کی پشت پناہی سے ہاتھ اٹھانے پر اپنے حکمرانوں کو مجبور کردیا۔
بدقمستی سے پاکستان میں فلسطین کے حق میں کوئی احتجاج نہیں ہورہا۔ بس ایک مرتبہ ریلی نکال کر لوگ خاموش ہوگئے۔ شاید انہوں نے بس فارملٹی پوری کرنی تھی۔ پاکستانی علماء نے تو اسرائیل کے خلاف ج٭ہا٭د کا بھی اعلان کیا تھا لیکن اب تک کوئی ایک بھی ج٭ہا٭د پر نہیں گیا اور اگر کوئی جانے کا سوچے گا بھی تو حکومت اس کی اجازت نہیں دے گی کیونکہ ہمارے حکمران یہود و نصاری سے ڈرتے ہیں۔
تحریر : یاسررسول

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں