شارٹ ویڈیوز اور ریلز بچوں کے دماغ کو کیسے نقصان پہنچا رہی ہیں، سائنسی تحقیق نے والدین کو خبردار کردیا

 

آج کے ڈیجیٹل دور میں شارٹ ویڈیوز جیسے ٹک ٹاک، یوٹیوب شارٹس، فیس بک اور انسٹاگرام ریلز بچوں اور نوجوانوں کی روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکی ہیں۔ بظاہر یہ ویڈیوز چند لمحوں کی تفریح لگتی ہیں، مگر سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ ان کا مسلسل اور زیادہ استعمال بچوں کے دماغی نشونما پر انتہائی گہرے اثرات چھوڑ رہا ہے۔


انسانی دماغ خاص طور پر بچپن میں تیزی سے نشوونما پاتا ہے۔ نیوروسائنس کے مطابق بچوں کا دماغ بار بار ملنے والے محرکات کے مطابق خود کو ڈھال لیتا ہے۔ 


شارٹ ویڈیوز میں تیز مناظر، اچانک آوازیں اور مسلسل نیا مواد دماغ کو اس بات کا عادی بنا دیتا ہے کہ ہر چند سیکنڈ بعد نیا ملے۔ 


اس عمل کو سائنسی زبان میں "اوور اسٹیمیولیشن" کہا جاتا ہے، جو دماغی توجہ کی صلاحیت کو کمزور کر دیتا ہے۔


تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مسلسل شارٹ ویڈیوز دیکھنے سے بچوں کا توجہ کا دورانیہ کم ہو جاتا ہے۔ 


بچے کسی ایک کام، جیسے کتاب پڑھنا، ہوم ورک کرنا یا استاد کی بات سننا، زیادہ دیر تک نہیں کر پاتے۔ دماغ کو فوری انعام ملنے کی عادت ہو جاتی ہے جبکہ حقیقی زندگی میں زیادہ تر کام صبر اور توجہ طلب ہوتے ہین۔


سائنسی طور پر یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ شارٹ ویڈیوز دیکھتے وقت دماغ میں ڈوپامین نامی کیمیکل بار بار خارج ہوتا ہے۔ 


ڈوپامین وہ مادہ ہے جو خوشی اور انعام کے احساس سے جڑا ہوتا ہے۔ جب یہ کیمیکل بار بار غیر فطری انداز میں خارج ہو تو دماغ اس کا عادی ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے بچے موبائل چھیننے پر بےچین، غصے میں یا اداس ہوجاتے ہیں، کیونکہ ان کا دماغ فوری خوشی سے محروم ہو جاتا ہے۔ ماہرین اسے توجہ کی کمی کی ابتدائی شکل قرار دیا جاتا ہے۔


مزید تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ تیز رفتار ویڈیوز بچوں کی یادداشت اور سیکھنے کے عمل کو شدید متاثر کرتی ہیں۔ 


دماغ کو معلومات سمجھنے اور محفوظ کرنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، مگر شارٹ ویڈیوز میں یہ وقت نہیں ملتا۔ 


نتیجتاً بچے معلومات کو گہرائی سے سمجھنے کے بجائے صرف سطحی انداز میں دیکھنے کے عادی ہو جاتے ہیں، جس سے تعلیمی کارکردگی کمزور پڑ سکتی ہے۔


نفسیاتی ماہرین کے مطابق زیادہ اسکرین ٹائم بچوں کے جذباتی رویے پر بھی اثر ڈالتا ہے۔ ایسے بچے جلدی غصہ کرتے ہیں، صبر کی کمی محسوس کرتے ہیں اور حقیقی سماجی روابط سے کٹنے لگتے ہیں۔ آہستہ آہستہ ان میں تنہائی، بےچینی اور بعض اوقات اداسی جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔


نیند پر پڑنے والا اثر بھی ایک اہم سائنسی حقیقت ہے۔ اسکرین سے نکلنے والی نیلی روشنی دماغ میں میلاٹونن ہارمون کی پیداوار کو کم کر دیتی ہے، جو نیند کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ 


جو بچے سونے سے پہلے موبائل استعمال کرتے ہیں، ان کی نیند متاثر ہوتی ہے اور ناکافی نیند دماغی نشوونما کو مزید نقصان پہنچاتی ہے۔


یہ کہنا درست نہیں کہ شارٹ ویڈیوز مکمل طور پر نقصان دہ ہیں، لیکن ان کا غیر متوازن اور بے قابو استعمال بچوں کے دماغی توازن کو بگاڑ رہا ہے۔ 


ماہرین اطفال اور نیورولوجسٹس اس بات پر متفق ہیں کہ بچوں کے لیے اسکرین ٹائم کی واضح حد ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ جسمانی کھیل، مطالعہ اور خاندانی گفتگو کو بھی لازمی معمول کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔


آخر میں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ بچوں کا دماغ ایک نازک امانت ہے۔ آج اگر ہم نے ان کی ڈیجیٹل عادات پر توجہ نہ دی تو مستقبل میں اس کے اثرات زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔ مسلسل رہنمائی، شعور اور والدین کی خصوصی تربیت ہی بچوں کو ڈیجیٹل نقصان سے بچا سکتی ہے۔


اس پوسٹ کو والدین کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔ صدقہ جاریہ


تحریر : یاسررسول

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں