ایران امریکہ مزاکرات کیوں ناکام ہوئے؟ دراصل امریکہ نے مطالبہ کیا کہ ایران یقین دہانی دے کہ کبھی بھی نیوکلیئر بم نہیں بنائے گا۔ جواب میں ایران نے یقین دہانے دینے سے انکار کرکے امریکہ کی سنجیدگی پر سوالات کھڑے کردیے۔
ایران نے کہا کہ یہ مطالبہ حالیہ جنگ بندی معاہدے کی شقوں میں شامل نہیں تھا تو اس پر ابھی سے بات کرنا غیر ضروری مطالبہ ہے۔
ایران کا کہنا تھا کہ پہلے امریکہ اپنی مخلصی دکھائے کہ وہ مزاکرات میں واقعی سنجیدہ ہے کیونکہ مزاکرات تو ہم پہلے بھی کر رہے تھے اور ایٹم بم نہ بنانے کی یقین دہانی بھی کروائی تھی پھر کیوں عین مزاکرات کے دوران امریکہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا؟ کیوں جنگ شروع کردی؟ تو اب ہم کیوں مزاکرات کرین؟ کیوں امریکہ پر اندھا یقین کریں؟ پہلے اپنی مخلصی دکھاو پھر بات کرو۔
دراصل ایران گارنٹی چاہتا ہے کہ جو بھی بات ہوگی اس پر امریکہ قائم بھی رہے گا یا نہیں۔
اور گارنٹی کے بدلے ایران نے جنگ سے ہونے والے نقصان کا ازالہ مانگا ہے۔
یعنی ہمارے منجمد اثاثے بھی رلیز کرو اور آبنائے ہرمز سے گزنے والے ٹینکروں سے ہم ٹول ٹیکس وصول کریں گے تاکہ اس سے اپنا جنگی نقصان پورا کریں۔
ایران کا یہ مطالبہ امریکہ نے جزوی مان بھی لیا تھا مگر مستقل طور پر امریکہ بھی ایسا کرنے نہیں دینا چاہتا کیونکہ امریکہ اس ٹول ٹیکس کو بھتہ خوری سمجھتا ہے۔
دراصل امریکہ اسرائیل نہیں چاہتے کہ ایران ٹول ٹیکس سے سالانہ اربوں ڈالرز حاصل معاشی طور پر طاقتور بن جائے کیونکہ ایسا ہوا تو پھر ایران خوشحال ہوجائے گا اور امریکہ اسرائیل کی ایران میں خانہ جنگی کروانے کی کوششوں الٹ پڑ جائیں گی۔
البتہ امریکہ ایران کے منجمد اثاثوں میں سے کچھ رلیز کرکے اپنی مخلصی کا اظہار کرسکتا ہے جس سے ایرانیوں کو تھوڑا یقین ہوجائےگا کہ اس دفعہ واقعی امریکہ مزاکرات میں سنجیدہ ہے۔
آبنائے ہرمز ٹول ٹیکس پر بھی کوئی سمجھوتہ کیا جاسکتا ہے۔ یعنی ٹیکس کم رکھا جاسکتا ہے یا اگلے 10 سال تک جیسی کوئی حد مقرر کی جاسکتی ہے۔
اصل مسئلہ نیوکلیئر بم نہ بنانے کا ہے۔ ایٹم بم کے علاوہ امریکہ نے میزائل پروگرام بھی ختم کرنے کا مطالبہ کیا جس پر ایران کا راضی ہونا تقریبا ناممکن ہے۔
اسرائیل اور امریکہ نہیں چاہتے کہ خطے میں کوئی اسلامی ملک ایٹم بم یا خطرناک میزائلوں کا حامل ہو۔ ایران میں رجیم چینج بھی اسی لیے کیا جارہا تھا تاکہ ایران کو شام کی طرح کمزور کیا جائے اور جولانی جیسا کوئی اپنا پٹھو بطور حاکم بٹھادیا جائے جو اسرائیل کا حامی ہو اور اسرائیل کو تسلیم کرنے پر تیار بیٹھا ہو۔
سفارتکاری ایک طویل مرحلہ ہوتا ہے، یہ سلسلہ آگے بھئ جاری رہے گا چاہے اسکے لیے فریقین کو کئی اور ملاقاتین بھی کرنی پڑیں۔
پاکستان نے ایرانی بھائیوں کو یقین دہانی کروائی ہے کہ آپ اکیلے نہیں، پاکستان آپ کا دوسرا گھر ہے، جب چاہیں دوبارہ آجائیں، ہمارے دروازے ہمیشہ آپ کے لیے کھلے ہیں۔
تحریر : یاسررسول

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں