پی ٹی ایم نے پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملے کی منصوبہ بندی 4 روز قبل کی۔ محسن داوڑ اور علی وزیر اور کچھ سیاسی لیڈران پہلے سے آگاہ تھے۔
گلالئی کے گرفتار ہونے کے بعد پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) پر بھارتی و اسرائیلی دباؤ بڑھ گیا تھا کہ کچھ ایسا کرکے دکھاؤ جس سے فوج کو نیچا دکھایا جاسکے۔ منصوبہ یہ بنا کہ چیک پوسٹ سے سہولتکار کو زبردستی چھڑواکے فوج کی ناک نیچی کی جائے پھر اگلی دفعہ گلالئی کو بھی تھانے سے چھڑوایا جائے اور اس میں عمران خان کو مکمل خاموش رکھوایا گیا تاکہ فوج اور پی ٹی ایم آپس میں لڑیں اور خون خرابہ بہے تاکہ حالات خطرناک صورتحال اختیار کرجائیں۔
مگر افسوس غداروں کو لینے کے دینے پڑگئے کیونکہ نمبر ون ان کے تمام منصوبوں سے بروقت آگاہ تھی۔ بروقت دندان شکست جواب دیکھ کر علی وزیر جیسا کارٹوں بھاگ نہ سکا جبکہ محسب داوڑ عام ورکوں کو لڑاتے ہی منظرعام سے فورا بھاگ گیا۔
اب پی ٹی ایم مکمل بےنقاب ہوچکی ہے۔ ہر پاکستانی جان چکا کہ پشتونوں کے نام پر تحریک شروع کرنے والے درحقیقت دشمن کے ایجنٹ ہیں۔
لیکن کیا وجہ ہے کہ ڈرپوک عمران خان اب بھی ان کے خلاف ایکشن لینے سے گریزاں ہے ؟
کوئی انصافی ہے تو جواب چاہیے۔
تحریر : یاسررسول
#PTMexposed
#ImranKhan
#MohsinDawar
#AliWazir
#GulaliIsmael
#PakArmy

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں