برطانوی صیہونی کمپنی بی بی سی نے حال ہی میں ایک کالم لکھا ہے جس میں نامعلوم پشتونوں کے حوالے دیکر پاک فوج پر بیشمار قتل اور دہشتگردی کے الزامات لگائے ہیں۔ دراصل یہ ڈس انفارمیشن کا وار ہے جسکے زریعے عام انپڑھ پشتون کو ریاست اور فوج کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔
اس کالم میں بیشمار الزمات کو میں نے سبز لائن سے ٹک کیا ہے تاکہ آپ بی بی سی کی پروپیگنڈہ مہمات کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔ ان الزامات کو پوائنٹ نمبر دیکر وضاحت سے اسکا جواب دے رہا ہوں۔
پوائنٹ نمبر - 1 اور 2
سب سے پہلے بی بی سی نے "عدنان رشید" نامی دہشتگرد کے گھر پر ڈرون حملے کا ذکر کیا ہے جس کا الزام بنا کسی ثبوت کے پاک فوج پر تھوپا ہے حالانکہ ڈرون حملے پاک فوج نہیں بلکہ امریکی فوج کرتی تھی۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ جس گھر کے افراد کو قتل کرنے کا الزام پاک فوج پر ڈالا ہے اسکی تفصیلات بتاتے ہوئے بی بی سی نے لکھا وہ صرف 2 کمروں پر مشتمل چھوٹا گھر تھا لیکن حیرت انگیز طور پر ڈرون میزائل حملے کے باجود بھی وہ مکمل تباہ نہیں ہوتا بلکہ گھر کا صرف ایک کمرہ ہی تباہ ہوتا ہے جبکہ دوسرے کمرے میں موجود میاں بیوی مکمل محفوظ رہے، انہیں صرف دھماکے کی
آواز سنائی دیتی ہے اور ان ہی کے نام پر بی بی سی نے الزامات کی بھرمار کی۔
اس سے بڑا لطیفہ بھی کوئی ہوسکتا ہے کہ ڈرون میزائل دو کمروں پر متشمل ایک چھوٹے سے گھر کو بھی تباہ نہ کرسکا۔ لہذہ بات بلکل واضع ہے کہ صیہونی بی بی سی نے کہانی کو جان بوجھ کر پلانٹ کرکے پاک فوج کو ظالم دکھایا ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ عام پشتون اتنا نہیں سوچے گا، نا ہی ان سے سوال کرے گا، صرف لکھی بات کو آنکھیں بند کرکے پاک فوج کو ظالم قاتل فوج مان لے گا
پوائنٹ نمبر - 3
یہاں بی بی سی کہتا ہے کہ جن لوگوں کے ساتھ پاک فوج نے ظلم کیا، جن کے گھر والوں کو قتل کیا وہ سب اب "پشتون تحفظ موومنٹ" کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔ بی بی سے نے پی ٹیٰ ایم کو "انسانی حقوق کی تنظیم" ظاہر کیا ہے۔ پھر منظور پشتین کو ہیرو بناتے ہوئے اسکی بات لکھی کہ 15 سال بعد ان (یعنی پشتونوں) میں ہمت ہوئی کہ فوج کے خلاف آواز اٹھائیں، ساتھ ہی منظور پشتین کی زبانی فوج پر ایک اور الزام لگایا کہ فوج نے براہ راست کاروائی کرکے (یعنی آپریشن ضرب عضب کرکے) اور پھر شدت پسندوں (یعنی دہشتگدوں) کی حمایت کرکے ہمارے (یعنی پشتونوں کے) آئینی حقوق کو کچلا۔ (یعنی ہم پر ظلم کیا، ہمیں قتل کیا وغیرہ وغیرہ)۔ جبکہ فوج سے پہلے جب ٹی ٹی پی خوارج ان کے گلے کاٹتے تھے، ان کی لڑکیوں کو اٹھاکے لے جاتے تھے، ان کی اولاد کو بیچ چوراہوں پر پھانسی دیتے یا سر قلم کردیتے تھے تب انہوں نے ہی فوج کو آپریشن کرنے کی درخواستیں کی تھیں لیکن بی بی سی صیہونیوں نے اس بات کا ذکر نہیں کیا تاکہ عام پشتونوں کو کہانی کا صرف ایک رخ بتایا جاسکے کیونکہ دوسرا رخ جاننے سے ان کے ایجنڈے کی تکمیل نہ ہوتی۔
پوائنٹ نمبر - 4
یہاں سب سے اوپر نائن الیون حملوں کا الزام القائدہ پر لگایا ہے، حالانکہ کچھ ماہ پہلے ہی امریکی سی آئی اے ڈائریکٹر خود اعتراف کرچکی ہیں کہ نائن الیون میں اسامہ بن لادن کے ملوث ہونے کے کوئی ثبوت نہیں ملے اور یہ کہ امریکہ اسامہ کے وارثین کو امداد دینے کی پیشکش کرچکا ہے۔ اس سے ہٹ کر نائن الیون پر تحقیق کرنے والے عالمی ماہرین خود اعتراف کرچکے ہیں کہ یہ بلڈنگز دو جہاز کے ٹکرانے سے گر ہی نہیں سکتی تھیں، ان کو منصوبے سے دھماکہ خیز مواد خود فٹ کرکے گرایا گیا تھا، واقعے کی وڈیوز بھی اسی بات کو سچ ثابت کرتی ہیں، واقعے کی وڈیو میں جو جہاز دکھایا جاتا ہے وہ بھی جعلی تھا جسے وڈیو ایڈیٹر کے زریعے ڈالا گیا تھا، بہت سی اصلی وڈیوز میں کوئی جہاز نظر نہیں آتا بلکہ بلڈنگ کے اندر دھماکے ہوتے دکھائے دیتے ہیں جسکے بعد بلڈنگ گرجاتی ہے۔ یعنی یہ کام خود امریکہ و اسرائیل نے کروایا تاکہ اس کی آڑ میں مسلمان ممالک پر فوج کشی شروع کی جاسکے۔
بی بی سی کمال مہارت سے القائدہ کو افغان طالبان ظاہر کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ افغان طالبان بھی وہی القائدہ ہیں اور نائن الیون کے بعد یہ پاکستان میں آئے تھے۔ حالانکہ یہ جھوٹ ہے، افغان طالبان اصلی مجاہدین اسلام ہیں جبکہ جو طالبان دہشتگردی کرتے ہیں یعنی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) انہیں خود امریکہ نے تخلیق کیا تھا تاکہ پاکستان میں بم دھماکے کرواکے پاکستان کا ایٹم بم تباہ کیا جاسکے۔ بی بی سی جیسی صیہونی ویب سائٹ نے کمال مہارت سے تصویر کا ایک رخ پیش کیا تاکہ عام انپڑھ پشتونوں کو صرف ایک رخی کہانی سناکر انہیں پاک فوج اور افغان طالبان دونوں کے خلاف اکسایا جاسکے۔
پوائنٹ نمبر - 5
یہاں بی بی سی پوائنٹ نمبر 4 والی بات کو مہر ثبت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ طالبان اور پاک فوج ایک جیسے ہیں، یعنی دونوں ہی دہشتگردی کرواتے ہیں، "پشتون تحفظ موومنٹ" کا بھی یہی نعرہ ہے کہ "یہ جو دہشتگردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے"۔ بی بی سی اسی بیانیے کو تقویت دیکر مرتی ہوئی پی ٹی ایم کو آکسیجن فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسی پوائنٹ میں نیچے بی بی سی تمام حدیں پار کرتے ہوئے ایک نامعلوم فوجی سرچ آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے
"فوجیوں نے گاؤں والوں کو اکھٹا کیا، ہر کسی کو مارا پیٹا اور بچوں کو منہ میں کیچڑ ڈال دیا۔ مار پیٹ سے دو لوگ ہلاک ہوگئے جن میں ایک حاملہ عورت بھی تھیں اور ایک شخص ابھی تک لاپتہ ہے".
دیکھا آپ نے کتنی مہارت سے الزامات لگادیے گئے وہ بھی بنا کسی ثبوت کے جبکہ حکومت پاکستان یا پاک فوج کے موقف کو بلکل بھی جگہ نہیں۔ اب یہ الزامات جب بی بی سی پشتو پڑھنے والے عام پشتون بھائی پڑھیں گے تو کیا وہ فوج کو گالیاں نہیں دیں گے؟ فوج کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھائیں گے؟ لر و بر کا نعرہ نہیں لگائیں گے؟ قصور ان عام انپڑھ پشتونوں کا نہیں انہیں اکسانے والوں کا ہے، انہیں ڈس انفارمیشن یعنی پروپیگنڈہ کے ذریعے گمراہ کرنے والوں کا ہے۔ اس الزام کے بعد تو حکومت پاکستان کو فورا بی بی سی کو پاکستان میں بند کردینا چاہیے۔
پوائنٹ نمبر - 6
یہاں بھی ایک واقعے کا سرسری ایک رخی تجزیہ پیش کرکے پاک فوج کو قاتل بناکے دکھایا گیا ہے۔ مدعا یہ کہ پاک فوج نے ایک گاڑی سے 2 افراد کو پکڑا اور دونوں کو موقع پر ہی سر میں گولیاں مارکے قتل کردیا۔ جبکہ ساتھ فوج یا حکومت پاکستان کا مقوف لکھنے کی زحمت نہیں کی تاکہ پشتونوں کو صرف ایک رخی بات سناکر فوج کے خلاف ورغلایا جاسکے۔
پوائنٹ نمبر - 7 اور 8
یہاں پھر پاک فوج پر دو افراد کو گولی مار کر قتل کرنے کا الزام لگایا جارہا ہے۔ تصویر کا صرف ایک رخ دکھایا جارہا ہے۔ دیکھیں اگر کوئی فوجی چیک پوسٹ پر حملہ کرکے بھاگ رہا ہو اور فوج پیچھا کرکے اسے گولی ماردے تو بی بی سی والے لکھتے ہیں کہ فوج نے دو بےقصوروں کو گولی مارکے ہلاک کردیا جبکہ یہ حرامزادے نہیں بتاتے کہ انہیں فوجی چیک پوسٹ پر فائرنگ کے جواب میں قتل کیا تھا۔ دوسرا رخ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب فوج نے کسی علاقے پر سرچنگ شروع کی تو کچھ دہشتگردوں نے فوجیوں پر فائرنگ شروع کردی یا بھاگنے کی کوشش کی، نہ رکنے یا سرینڈر نہ کرنے کی صورت میں لازمی فوج جوابی فائر کھول کر انہیں جہنم واصل ہی کرے گی۔ لیکن یہاں بی بی سی جیسے حرام کے نطفے لکھیں گے کہ فوج نے بےقصوروں کو گولیاں مارکے قتل کردیا تاکہ عام پشتونوں کو کہانی کا صرف ایک رخ بتاکر پاک فوج کو ظالم قاتل فوج قرار دیا جاسکے۔
اسی پوائنٹ میں نیچے ایک اور بندے کو سر میں گولی مارکے ہلاک کرنے کا الزام پاک فوج پر ڈالا جاتا ہے حالانکہ کہانی کا دوسرا رخ کیا تھا اس پر بات نہیں کی جاتی نہ ہی فوج کا موقف بیان کیا جاتا ہے۔ ہاں البتہ اپنی پروپیگنڈہ تحریر کو کامیاب کرنے کے لیے لکھ دیا جاتا ہے کہ جب پاک فوج کے شعبہ تعلقات سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ الزامات انتہائی من گھڑت ہیں، اس سے زیادہ کوئی وضاحت نہیں دی گئی تاکہ عام پشتون سمجھے کہ دراصل فوج کے پاس جواب ہے ہی نہیں یعنی فوج اب تو پکی قاتل ظالم ثابت ہوگئی۔
پوائنٹ نمبر - 9
یہاں پاک فوج پر 8000 لوگوں کو مسنگ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ یاد رہے منظور پشتین نے تو 5000 مسنگ پرسنز بتائے تھے لیکن جب عدالت نے جب اس سے ان لاپتہ افراد کی فہرست مانگی تو وہ منظور آج تک عدلیہ کو نہیں دے سکا کیونکہ لسٹ تھی ہی نہیں صرف الزام تھا۔ اب بی بی سی نے تخلیقی کرداروں کے ذریعے 8000 افراد کو لاپتہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔
پھر پی ٹی ایم کا حوالہ دیکر کہا گیا ہے کہ پاک فوج کے پشتونوں پر مظالم کی بیشمار کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔ حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ پی ٹی ایم والے شروع دن سے ہی بے بنیاد الزامات لگاتے آئے ہیں، انہوں نے جو بھی تصاویر اور وڈیوز پھیلائیں سب جھوٹ ثابت ہوئیں لیکن چونکہ بی بی سی تخلیقی کرداروں کے حوالے دیکر الزامات لگاتا ہے لہذہ بی بی سی خود کو الزامات سے بری الذمہ قرار تو دے سکتا ہے لیکن یہ صحافتی اقدار کے بلکل خلاف ہے۔
ہم جیسے سرپھرے ان صیہونی نطفوں کا اصل ایجنڈہ اچھی طرح جانتے ہیں۔
اس کے علاوہ ۔ ۔ ۔
لکھا ہے جب "پشتون تحفظ موومنٹ" سامنے آئی تو میڈیا کوریج پر پابندی لگادی گئی جو کہ سراسر جھوٹ ہے۔ جن دنوں پی ٹٰی ایم سامنے آئی اس وقت نواز شریف وزیراعظم تھے اور آپ اسکے ایک ایک دن کی رپورٹ نکال کر دیکھ لیں، وہ دن اور آج کا دن نواز شریف نے کبھی بھی پی ٹی ایم کے خلاف ایک لفظ تک نہیں بولا بلکہ اپنی کابینہ کو بھی ان کے خلاف بولنے سے منع کیا تھا، جب خود ہی خاموش رہ کر پی ٹی ایم کو پھلنے پھولنے کا راستہ دے رہے تھے تو میڈیا کو کیوں روکیں گے؟ اس وقت تو پی ٹی ایم کے جلسوں کو ہر ٹی وی چینل دکھاتا تھا۔ مریم نواز خود انہیں لاہور میں خوش آمدید کہتی رہی ہیں۔ پابندیاں تو عمران حکومت نے غداری ثابت ہونے کے بعد فوج کی درخواست پر لگائی ہیں لہذہ بی بی سی کا یہ پروپیگنڈہ بھی پکڑا گیا۔
اسکے نیچے پھر الزام لگایا کہ جو کارکن پشتونوں پر فوجی کے مظالم کے ثبوت اکھٹے کر رہے ہیں یا سوشل میڈیا پر مہم چلا رہے ہیں انہیں جیل میں ڈال دیا گیا۔ آپ بتائیں پی ٹی ایم کے کتنے کارکن جیل میں ڈالے گئے ہیں؟ کہاں ہے ان کی فہرست ؟ بی بی سی خفت سے بچنے کے لیے بات کو گھماکر محسن داؤر اور علی وزیر تک لاکے کہتا ہے کہ انہیں جیل میں ڈال دیا گیا۔ حالانکہ یہاں ہمیشہ کی طرح کہانی کا صرف ایک رخ ظاہر کیا گیا جبکہ حقیقت ہم سب جانتے ہیں کہ محسن داوڑ اور علی وزیر نے پاک فوج کی چیک پوسٹ پر فائرنگ کی تھی اسی لیے فوج نے انہیں گرفتار کیا اور اس واقعے کی تصاویر اور وڈیوز سب کچھ موجود ہے۔
! قارئیں
بی بی سی عالمی صیہونیت کا اہم ترین اثاثہ ہے، پی ٹی ایم کو سپورٹ کرنے کے لیے دوسرے صیہونی چینل وائس آف امریکہ، مشعال اور ڈیوہ بھی ہیں۔ بی بی سی برطانوی ایجنسی ایم آئی سکس کا اور وائس آف امریکی سی آئے اے کا چینل ہے۔ اسکے علاوہ پشتونوں کے نام پر بنی ہزاروں آئی ڈیز، پیجز اور گروپس انڈین اور اسرائیلی سوشل میڈیا کے پیڈ ورکرز چلاتے ہیں جن کے ثبوت بھی موجود ہیں۔
اب چونکہ پی ٹی ایم پر برے دن شروع ہوچکے ہیں، ایک عام پشتون کو بھی پی ٹی ایم کی ملک دشمنی کھل کر نظر آنے لگی ہے، عام پشتون اب تنظیم کے لیڈران کی طرف سے فوج کو نکل جانے کی دھمکیوں پر سوال اٹھانے لگے ہیں تو ایسے وقت میں بی بی سی پشتونوں کے قتل کے الزام پاک فوج پر ڈالنا شروع کرکے انہیں پھر افواج کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی کوشش کر رہا ہے۔
آج عام پشتون کہتا ہے کہ پہلے تو پی ٹی ایم کے مطالبات میں یہ شامل نہیں ھتھا تو اب مطالبات پاکستان دشمنی والے کیوں ہوگئے ہیں۔ اسی لیے "بی بی سی" اور "وائس آف امریکہ" بشمول بھینسے اور غینڈے سب مل کر اس وقت پشتونوں کو دوبارہ پاک فوج کے خلاف اکسانے کے لیے جھوٹے مظالم سنا سنا کر اور دکھا دکھا کر پھر سے ان کی برین واشنگ کرنے میں مصروف ہیں تاکہ عام پشتون کہیں محب وطن بن کر "پی ٹی ایم" کے خلاف نہ کھڑا ہوجائے جس سے ان کی اربوں کی سرمایہ کاری ڈوب جائے گی۔
! پیارے محب وطن سوشل میڈیائی شاہینوں
یہاں ہماری ذمہ داری شروع ہوتی ہے کہ "پشتون تحفظ موومنٹ" کو سپورٹ کرنے والے تمام غداروں، میڈیا چینلز، صحافیوں اور سیاستدانوں کو کھل کر بےنقاب کریں تاکہ عوام حق اور سچ پہچان سکے۔ باقی سب کو بھی بےنقاب کیا اب بی بی سی کو بےنقاب کرنے کے لیے لکھنا شروع کردیں۔ میں نے لکھ دیا اب آپ کی ذمہ داری ہے اس کو آگے شیئر کریں تاکہ پشتونوں کو یہود و نصاری کے پروپیگنڈے سے بروقت آگاہ کیا جاسکے۔
تحریر : یاسررسول
www.Twitter.com/IamYasirRasool نوٹ: مجھے ٹویٹر پر فالو کیجیے۔
#YasirRasool
#PashtunTahafuzMovement
#BBCexposed
#ISPR
#PakistanArmy
#WaziristanPakistan










تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں