عید کیا ہوتی ہے صاحب ؟


غریب کی کوئی عید نہیں ہوتی، اسے عید پر نہ تو نئے کپڑے ملتے ہیں نہ ہی پہننے کو جوتے اور نہ ہی کھانے کو عمدہ پکوان یا مٹھائیاں۔ کبھی محسوس کیا ہے غربت کے درد کو ؟

ہاتھ جوڑ کے التجا کرتا ہوں اپنی عید کی خوشیوں میں غریبوں کو شامل کیجیے، کسی کو کپڑے لیکر دیجیے یا پرانے ہی دے دیں، نہیں دے سکتے تو ایک چپل ہی لیکر دے دیں، یہ بھی نہیں کرسکتے تو بچیوں کو چوڑیاں، مہندی یا کھلونے ہی لیکر دے دیں۔ یہ بھی نہیں کرسکتے تو اپنے روزوں کا فطرانہ ہی انہیں دے دیں۔

الغرض اللہ نے آپ کو جتنی دولت سے نوازا ہے اسی حساب سے مدد کریں۔ اللہ نے آپ کو بےحساب رزق سے نوازا ہے تو آپ بھی بےحساب غرباء و مساکین کی مدد کیجیے۔ اللہ آپکو آزما رہا ہے۔

لیکن خبردار - خبردار - خبردار

اپنی زکوات، فطرات خیرات ایسے فقیروں کو ہرگز مت دیں جو پیشہ ور بھکاری ہیں، یہ پوری زندگی صرف بھیک ہی مانگتے ہیں انہیں بھیک دینا درحقیقت ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ دینا ہے تو ان خودار غرباء و مساکین کو دیں جو عزت نفس کی وجہ سے کبھی ہاتھ نہیں پھیلا پاتے۔

آپ کی خیرات صدقات کا پہلا حق آپ کے غریب مسکین بہن بھائی ہیں، پھر آپ کے غریب رشتہ دار ہیں، پھر غریب مسکین پڑوسی ہیں اور ان سب میں اگر کوئی غریب مسکین نہیں تو پھر عام غرباء و مساکین کو ڈھونڈ کر مدد کرنا آپ پر فرق ہے۔

اسلام نے زکوات، صدقات اور خیرات کا اصول اسی لیے رکھا ہے تاکہ اس پیسے سے معاشرے کے غرباء و مساکین کو غربت کی لکیر سے نکال کر خودمختار بنائے جا سکے۔ دوسری طرف ایسا کرنے سے اللہ آپ کا مال پاک فرمادیتا ہے اور اس میں برکت ڈال دیتا ہے۔ زکوات نہ دینے کی صورت میں مال ناپاک بھی رہتا ہے اور برکت بھی ختم ہوجاتی ہے جبکہ مرنے کے بعد زکوات نہ دینے پر جہنم کا عذاب الگ ہوگا۔

آئیے، عید سے پہلے پہلے غرباء و مساکین کو ڈھونڈیں، ان کی دل کھول کر امداد کریں، انہیں کپڑے، چپل، کھلونے یا ماہانہ راشن پہنچائیں۔ کوئی بیوہ ہے تو انکے بچوں کی کفالت کی ذمہ داری لیں، اپنے گھر بطور ملازم کام کرنے والے نوکروں اور نوکرانیوں کا خاص خیال رکھیں، انہیں عید پر کپڑے، جوتے وغیرہ ویسے ہی لیکر دیں جیسے اپنی اولاد کو لیکر دیتے ہیں۔

کون کون اس امت کے غرباء و مساکین کی مدد کا عہد کرتا ہے ؟؟؟؟

تحریر : یاسررسول

نوٹ : میں خود ایک فقیر کا یتیم بیٹا ہوں، میں نے غربت کو محسوس کیا ہے، کاش آپ بھی اس درد کو سمجھیں۔

تبصرے