حال ہی میں انڈین آرمی چیف بپن راوت نے پاکستانی علاقے آزاد کشمیر میں سرجیکل اسٹرائک کا جھوٹا دعو ہ کیا لیکن جب ثبوت مانگا گیا تو آئیں بائیں شائیں کرکے بھاگ گیا۔ اسکے بعد پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی آرمی چیف کے دعوے کو سو فیصد جھوٹ کا پلندہ قرار دیکر تمام غیر ملکی سفیروں بشمول بھارتی سفارت خانے کو دعوت دے دی کہ آئیے کل وہاں چلتے ہیں جہاں انڈین آرمی چیف نے سرجیل اسٹرائک کا دعوہ کیا ہے تاکہ دنیا کو معلوم ہوسکے کہ واقعی کوئی سرجیکل اسٹرائک ہوئی بھی ہے یا بھارت ہمیشہ کی طرح جھوٹ ہی بولتا ہے۔
اگلے دن تمام غیر ملکی سفیر DG ISPR کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے لیکن بھارتی سفیر نے چلنے سے صاف انکار کردیا۔۔۔۔ کیونکہ اس کے پاس اپنے آرمی چیف کے جھوٹے سرجیکل اسٹرائک کے دعوے کو ثابت کرنے کا کوئی ثبوت نہیں تھا اور وہ جائے وقوعہ پر جاکر اپنے آپ کو ذلیل نہیں کروانا چاہتا تھا لہذہ چپ کرکے بیٹھ گئے۔
آجکل انڈین آرمی چیف "بپن راوت" ایک منصوبے کے تحت پاکستان پر مسلسل دہشتگردی کے الزامات لگا رہا ہے۔ کبھی کہتا ہے آزاد کشمیر میں دہشتگرد بیٹھے ہوئے ہیں جو وہاں سے مقبوضہ کشمیر پر حملہ کرتے ہیں، کبھی کہتا ہے وہی دہشتگرد کشمیریوں کو دوکانین نہ کھولنے کا کہتے ہیں اور کبھی کہتا ہے کہ کشمیری بچوں کے سکول نہ جانے کے پیچھے بھی پاکستان ہے۔۔ ۔ ۔ ۔ 😁
لگتا ہے یہ بڈھا بلکل پاگل ہوگیا ہے۔ 😜
یاد رہے کشمیر میں 3 ماہ سے سخت کرفیو لگا ہوا ہے۔ کرفیو کے دوران تمام تعلیمی ادارے بھی بند ہیں، کشمیریوں کو باہر نکلنے کی اجازت تک نہیں تو وہ دوکانیں کیسے کھولیں گے اور اپنے بچوں کو کیوں سکول بھیجیں گے جبکہ جو بھی بچہ یا جوان باہر آتا ہے بھارتی دہشتگرد فوج اسے پکڑ کر جیل میں ڈال دیتے ہیں۔
*تو بھارتی آرمی چیف پاکستان پر الزامات کیوں لگا رہا ہے ؟*
میرے مطابق اسکی تین وجوہات ہیں۔
1. بھارتی آرمی چیف مودی کی جماعت BJP کو الیکشن جتوانے کے لیے سرجیکل اسٹرائک کے دعوے کرتا ہے تاکہ BJP اور RSS کے دہشتگرد الیکشن جیت جائیں۔ مطلب انڈین فوج اب BJP اور RSS کی الیکشن کمپین چلا رہی ہے۔
2. ایک منصوبے کے تحت حکومتی وزراء سے لیکر فوجی جنرلز تک سب پاکستان پر جھوٹے الزامات اس لیے لگا رہے ہیں تاکہ اس بہانے آزاد کشمیر پر حملے کا جواز پیدا کیا جاسکے، بار بار ایک ہی جھوٹ دہرانے سے وہ سچ لگنے لگتا ہے، اسے چانکیہ پالیسی کہتے ہیں۔ اب یہی بھارتی عوام کے ساتھ کیا جارہا ہے تاکہ وہ ایک ہی جھوٹ بار بار سن کر اسے سچ مان لیں۔
3. بھارتی حکومت پاکستان پر الزامات لگا کر دراصل پاکستان کو مقبوضہ کشمیر سے دور رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ یعنی پاکستان پر الزامات لگاتے جاؤ، پاکستان لازمی انکار کردے گا کہ ہم نے کوئی حملہ نہیں کیا، یوں دنیا پاکستان پر ضرور شک کرے گی جبکہ امریکی و اسرائیل اور صیہونی میڈیا پہلے ہی بھارتی بیانیے کو سچ دکھاتا ہے۔ یوں پاکستان بین الاقوامی برادری میں بدنامی اور پابندیوں سے بچنے کے لیے مقبوضہ کشمیر پر زبان بند رکھے گا۔ آپ دیکھیں FATF سے لیکر United Nations تک ہر جگہ عمران خان چیخا چلایا، سب کو کشمیر کی حالت پر ترس کھانے کی اپلییں کرتا رہا لیکن کیا کسی نے کوئی ایکشن لیا؟ الٹا عالمی قوتوں نے FATF نے ذریعے پاکستان کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں، حافظ سعید سے لیکر کشمیر کاز سے منسلک تمام شخصیات یا اداروں کے ہاتھ اسے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ذریعے باندھے گئے۔ بھارت کو جس سے بھی خطرہ تھا FATF نے ان تمام عوامل کو ختم کرنے کی شرائط رکھیں ورنہ یورپین منڈیوں میں رسائی نہیں ملے گی اور بلیک لسٹ کے نام پر معاشی پابندیاں۔
اللہ (عزوجل) نے اسی لیے قرآن پاک میں ہمیں آگاہ فرما دیا تھا کہ
" اے ایمان والو ! یہود و نصاریٰ تمہارے کبھی دوست نہیں ہوسکتے، یہ صرف آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں"
قارئین !
بھارتی فوج صرف جھوٹے دعوؤں ہی کرسکتی ہے کیونکہ ان پر بالی ووڈ فلموں کا شدید اثر ہے، حقیقیت میں یہ جب پاک فوج کے سامنے آتے ہیں تو اپنے دس بیس فوجی مروالیتے ہیں۔ پچھلے دنوں بھی بھارتی فوج بارڈر پر سفید جھنڈہ لہراکر پاک فوج سے کتے والی بھی کرواچکی ہے۔
بھارتی آرمی چیف ایک طرف بھڑکیں مارتا ہے کہ سرجیکل اسٹرائک کردی جبکہ دوسری طرف بارڈر پر اپنی فوج کے 10 سے 20 فوجی جہنم واصل کروادیتا ہے۔ DG ISPR میجر جنرل آصف غفور نے اسی لیے کہا کہ بھارتی آرمی چیف کی نااہلی اور غیر پیشہ ورانہ بیانات کی بھارتی فوج کو بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ بپن راوت کو بھڑک مارنے سے پہلے سو مرتبہ سوچ لینا چاہیے کیونکہ سامنے پاک فوج ہے کوئی نیپالی فوج نہیں جو خاموش رہے۔ بھارتی فوج کی حالت یہ ہے کہ کبھی ان کے طیارے گر جاتے ہیں، کبھی جنرل سمیت ہیلی کاپٹر تباہ ہوجاتا ہے تو کبھی بھارتی فوج بارڈر پر سفید جھنڈے لہراکر معافی مانگتی پھرتی ہے۔
پاک فوج کے ترجمان نے بھارتی آرمی چیف کو خبردار کیا ہے کہ آپ کا عہدہ انتہائی اہم ہے، آپ کو ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے پرہیز کرنا چاہیے ورنہ جنگ ماحول کو ہوا ملے گی اور اگر جنگ چھڑ گئی تو بھارتیو یاد رکھنا تمہیں نانی یاد نہ کروائی تو پھر کہنا۔ ہم تو ویسے بھی 1450 سال سے *"غزوہ ہند"* کی تیاری کر رہے ہیں۔ جنگ چھڑ گئی تو بھارتیوں کی سات نسلوں تک کو نصاب میں ایک نیا باب پڑھنا پڑھے گا کہ "ایک تھا ہندوستان"۔
Plz Please Follow Yasir Rasool
Twitter :
www.Twitter.com/iamYasirRasool
Youtube :
www.Youtube.com/YasirRasool
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں